اسلامی نظریاتی کونسل،فواد چودھری آمنے سامنے

اسلامی نظریاتی کونسل،فواد چودھری آمنے سامنے


اسلام آباد(ویب ڈیسک) اسلامی نظریاتی کونسل اور وفاقی وزیر فواد چوھری میں ٹھن گئی،دونوں ایک دوسرے کے سامنے آگئے، اسلامی نظریاتی کونسل نے نیب آرڈیننس کی دفعات کو غیر شرعی قرار دیا تو فواد چودھری نے نفی کرتے ہوئے کونسل پر اٹھائے جانیوالے اخراجات پر سوال اٹھا دیا۔

اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین ڈاکٹر قبلہ ایاز نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ کونسل کا اجلاس 2 روز تک جاری رہا، کونسل نے سوشل میڈیا پر توہین آمیز مواد کے خلاف قومی اسمبلی کی قرارداد کی تائید کی۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ سوشل میڈیا پر توہین آمیز مواد اپ لوڈ کرنے پر پابندی لگائی جائے۔

اسلامی نظریاتی کونسل نے نیب آرڈیننس کی کچھ دفعات کو غیر شرعی اور غیر اسلامی قرار دیا اور کونسل کے چیئرمین نے بتایا کہ آرڈینس کی دفعات 14 ڈی، 15 اے اور 26 غیر اسلامی ہیں۔کونسل کا کہنا ہےکہ بے گناہ کو ملزم ثابت کرنا، وعدہ معاف گواہ بننا اور پلی بارگین کی دفعات غیر اسلامی ہیں، نیب ملزمان کو ہتھکڑی لگانا میڈیا پر تشہیر کرنا اور حراست میں رکھنا غیر شرعی ہے۔

اسلامی نظریاتی کونسل نے بچوں سے جنسی تشدد کی روک تھام کیلئے تجاویز دیں اور بچوں سے جنسی تشدد کے لیے خصوصی عدالتیں بنانے کی سفارش کی ہے۔

’’کونسل پر کروڑوں روپے خرچ کرنا سمجھ سے بالا تر ہے‘‘

وفاقی وزیر برائے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد  چودھری کا فیصلوں پر تنقید کرتے ہوئے  کا کہنا تھا کہ اسلامی نظریاتی کونسل جیسے ادارے پر کروڑوں روپے خرچ کرنا سمجھ سے بالاتر ہے۔

چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل قبلہ ایاز نے وفاقی وزیر فواد چودھری کے ٹویٹ پر کہا ہےکہ فواد چودھری ہماری سفارشات پر شرعی دلیل دیں تو غور کریں گے،ہمارے کام کی تائید ہونی چاہیے۔فواد چوہدری کا ٹویٹ سمجھ سے بالاتر ہے۔

Azhar Thiraj

Senior Content Writer