دوحہ انٹرا افغان امن کانفرنس ختم،مشترکہ اعلامیہ جاری

دوحہ انٹرا افغان امن کانفرنس ختم،مشترکہ اعلامیہ جاری


دوحہ(24نیوز)دوحہ  میں دو روزہ انٹرا افغان امن کانفرنس ختم ہو گئی ہے۔ کانفرنس کے اختتام پر ایک مشترکہ اعلامیہ جاری کیا گیا جس میں کہا گیا کہ کانفرنس کے شرکا دوحہ قطر میں اس دو روزہ امن کانفرنس کے انعقاد کا خیر مقدم کرتے ہیں۔

اعلامیہ میں خاص طور پر اقوام متحدہ ، علاقے کے ممالک، امریکا اور انٹرا افغان کانفرنس میں مذاکرات کا اہتمام کرنے اور تنازعے کے حل کیلئے اقدامات اختیار کرنے والوں کی کوششوں کو سراہا گیا اور اس امید کا اظہار کیا گیا کہ افغانستان میں حقیقی قیام امن کیلئے یہ تمام فریق مثبت کردار ادا کرتے رہیں گے۔

جاری ہونے والے بیان میں شرکا نے کہا کہ مذاکرات سے افغانستان کے حال اور مستقبل کے بارے میں افہام و تفہیم پیدا کرنے میں مدد ملی ہے اور اس سے رکاوٹیں دور کرنے اور ایک دوسرے کو سمجھنے کا موقع میسر ہوا ہے۔ لہذا تمام شرکا کا إصرار تھا کہ اس انداز کے مذاکرات کو جاری رہنا چاہئے۔ تمام ارکان اس بات پر متفق ہیں کہ افغانستان میں پائیدار اور باعزت امن کا قیام تمام افغان لوگوں کا مطالبہ ہے اور یہ تمام افغان فریقین کی شمولیت سے ہی ممکن ہو گا۔

اعلامیہ کے مطابق افغانستان ایک متحد اسلامی ملک ہے اور اس میں مختلف نسلی برادریاں، اسلامی اقتدار اعلیٰ، سماجی اور سیاسی انصاف، قومی وحدت اور علاقائی خود مختاری موجود ہے اور تمام افغان لوگ ان کی پوری طرح قدر کرتے ہیں ۔ افغانستان کی تمام تر تاریخ اور خاص طور پر گذشتہ چالیس برسوں کے دوران افغان لوگوں نے اپنے مذہب، ملک اور ثقافت کا دفاع کیا ہے اور آزادی کیلئے قربانیاں دی ہیں۔

افغانستان میں دوبارہ لڑائی کی اجازت نہیں دی جا سکتی اور افغان معاشرے کے تمام طبقوں کے درمیان سمجھوتہ انتہائی اہم اور ناگزیر ہے لہذا اقوام عالم کو افغانستان کی اقدار کا پاس کرنا چاہئیے  چونکہ افغان قوم نے طویل عرصے سے جاری جنگ سے شدید نقصان برداشت کیا ہے اس لئے  یہ ضروری ہے کہ انٹرا افغان مذاکرات کیلئے اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ متحارب گروہ سرکاری اجلاسوں کے دوران ایک دوسرے کے خلاف دھمکیوں، بدلہ لینے اور غیر مناسب الفاظ کے استعمال سے گریز کریں۔

بیان میں گرفتار ہونے والے ضعیف، معذور اور بیمار افراد کو فوراً رہا کرنے کا اور عوامی اداروں کے تحفظ کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا گیا۔ بیان میں خاص طور پر سیاسی، سماجی، اقتصادی، تعلیمی اور ثقافتی شعبوں میں اسلامی اقدار کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے خواتین کے حقوق کو یقینی بنانے کا بھی مطالبہ کیا گیا اور کہا گیا کہ امیگرینٹس اور بے دخل ہونے والے افراد کی واپسی کو یقینی بنایا جائے۔

مشترکہ بیان میں ہمسایہ ممالک سے افغانستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہ کرنے کی درخواست کی گئی اور اقوام متحدہ ، سیکیورٹی  کونسل، اسلامی کانفرنس، یورپی یونین اور افغانستان کے ہمسایہ ملکوں سے بھی استدعا کی گئی کہ وہ ماسکو اور  دوحہ کانفرنس کی حمایت کریں۔

ضرور پڑھیں:ضمیر کی آواز

افغان حکومت کا 900طالبان قیدی رہا کرنے کا اعلان

افغان حکومت نے امن عمل آگے بڑھانے کیلئے900طالبان کی رہائی کا اعلان کردیا ۔ افغانستان کے شمالی صوبہ جاوزان میں طالبان نے چالیس  سکیورٹی  اہلکار رہا کردئیے ہیں۔ فوج کے ایک ترجمان عبدالہادی جمال نے کہا کہ رہا کئے گئے افراد شبر غان پہنچ گئے ہیں جن میں بیشتر پولیس اہلکار ہیں یہ گزشتہ ہفتے میں جاوزان صوبے سے رہا کئے گئے افغان سیکورٹی اہلکاروں کا دوسرا گروپ ہے۔ اس سے قبل طالبان نے ایک ہفتہ پہلے صوبے کے ضلع قش ٹیپا پر قبضے کے بعد بیالیس افغان سیکورٹی اہلکار رہا کئے تھے۔

اطلاعات کے مطابق طالبان شدت پسندوں نے گزشتہ ہفتے ضلع قش ٹیپا پرقبضہ کرکے نوے سیکورٹی اہلکاروں کو گرفتار کرلیاتھا۔ افغان حکو مت نے جاری امن عمل تیز کرنے کیلئے جذبہ خیرسگالی کے طورپر جیلوں میں قید تقریباً نوسو طالبان کو بھی رہا کرنے کا اعلان کیا ہے۔

اظہر تھراج

Senior Content Writer