پی ٹی آئی ٹکٹو ں کی تقسیم , تبدیلی چاہنے والوں کا کیا نقصان ہوا؟

پی ٹی آئی ٹکٹو ں کی تقسیم , تبدیلی چاہنے والوں کا کیا نقصان ہوا؟


لاہور( 24نیوز )2013ءکے الیکشن میں جو جماعت تبدیلی کا علم تھام کرملک کی تیسری مقبول جماعت بنی تھی آج اسی تبدیلی کو خود اپنے ہاتھوں سے دفن کرتے نظر آتی ہے اپنے منشور ،بنیادی اصولوں کیخلاف بغاوت کرچکی ہے،یہ کہا جائے کہ تحریک انصاف اسٹیٹس کو اور موروثیت سے شکست کھا گئی تو غلط نہ ہوگا۔
ٹکٹوں کی بندر بانٹ میں خاندانوں کو نواز گیا ہے،نوجوانوں کو پس پشت ڈال کر دوسری پارٹیوں سے آنیوالے بزرگوں کو ٹکٹس دیے گئے ہیں،فیصل آباد کے ساہی خاندان کو پانچ ٹکٹس دیے گئے ہیں،دو بھائیوں کو بھی ٹکٹس دیے گئے ہیں۔
شاہ محمود قریشی خود تواین اے 156 ملتان سے الیکشن لڑ ہی رہے ہیں لیکن ذاتی اثر و رسوخ سے اپنے بیٹے زین قریشی کو بھی این اے 157 کا ٹکٹ دلوادیا، عمران خان کے قریبی ساتھی جہانگیر ترین کے بیٹے کو بھی ٹکٹ کا پروانا جاری ہوگیا، علی ترین این اے 172 لودھراں سے قسمت آزمائی کریں گے،بریگیڈیئرریٹائرڈ اسلم گھمن نے تو کمال ہی کردیا، اپنے لیے این اے 76 کا ٹکٹ حاصل کیا لیکن ساتھ ہی اپنے دو بھائیوں کو صوبائی اسمبلی کی ٹکٹ بھی دلوا دی۔ اب عمر شہزاد گھمن پی پی 44 اور عظیم گھمن پی پی 43 سے پی ٹی آئی کے امیدوار ہوں گے۔

یہ بھی پڑھیں: بھائیوں میں دراڑ ، وجہ”نثار“بن گئے
ن لیگ سے پی ٹی آئی میں آنے والے سردار ذوالفقار کھوسہ سب سے کائیاں نکلے، پی ٹی آئی جوائن کیے جمعہ جمعہ آٹھ دن ہوئے نہیں لیکن پارٹی ٹکٹ دو دو مل گئے۔ وہ خود این اے 190 ڈیرہ غازی خان سے کپتان کے کھلاڑی ہوں گے اوران کے صاحبزادے سیف اللہ پی پی 288 ڈی جی خان سے الیکشن لڑیں گے۔احمد چٹھہ این اے 79 اور ان کے قریبی عزیز نعمان اللہ چھٹہ کو گوجرانوالہ سے پی پی کا ٹکٹ جاری کر کے پی ٹی آئی نے موروثیت سے شکست یا دوہرے معیار کا ایک اور ریکارڈ قائم کیا ہے۔
این اے 150خانیوال میں رضا حیات ہراج کو ٹکٹ دیا گیا تو ان کے چھوٹے بھائی اکبر حیات ہراج کو پی پی 203کا ٹکٹ ملا ہے این اے151میں کزن احمد یار ہراج بھی ٹکٹ لے اڑے ہیں ، ڈیرہ غازی خان سے زرتاج گل کو قومی اسمبلی کے حلقے این اے 191 اور ان کے شوہر ہمایوں رضا خان اخوند کو صوبائی نشست کے لیے پارٹی ٹکٹ ملنے کا امکان ہے۔ گزشتہ انتخابات میں بھی دونوں میاں بیوی تحریک انصاف کے امیدوار تھے،سندھ کے ضلع دادو میں بھی ایسا ہی ہوا جہاں لیاقت جتوئی کو این اے 234 جب کہ کریم خان جتوئی کو دادو ٹو این اے 235 سے پارٹی ٹکٹ دیا گیا ہے۔ صوبائی اسمبلی کے حلقوں پی ایس 83 اور پی ایس 84 کے لیے سابق وزیراعلی اور پی ٹی آئی رہنما کے بھائیوں احسان علی جتوئی اور صداقت علی جتوئی کو ٹکٹ جاری کیے گیے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  پی ٹی آئی نے ٹکٹوں کی تقسیم کی نئی لسٹ جاری کردی
خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ پرویز خٹک نے بھی کچھ ایسا ہی کیا جو خود بھی قومی و صوبائی اسمبلی کی نشستوں پر امیدوار ہیں جب کہ نوشہرہ سے ان کے بھتیجے اور داماد عمران خٹک بھی پارٹی ٹکٹ پانے میں کامیاب رہے ہیں۔
ایبٹ آباد کے لیے قومی اسمبلی کے حلقے این اے 16 کا ٹکٹ علی جدون کو دیا گیا ہے جو سابق لیگی اور موجودہ پی ٹی آئی رہنما امان اللہ جدون کے بیٹے ہیں۔ پی ٹی ا?ٓئی کے مرحوم رہنما سابق ایئر مارشل اصغر خان کے بیٹے علی اصغر خان کو ایبٹ آباد سے قومی اسمبلی کے حلقے این اے 15 کا ٹکٹ دیا گیا ہے۔ اس حلقے سے گزشتہ بار منتخب ہونے والے ڈاکٹر اظہر جدون نظرانداز کر دیے گئے ہیں،ہری پور میں بھی ایسا ہی معاملہ ہوا جہاں سابق لیگی رہنما گوہر ایوب خان کے بیٹوں عمر ایوب کو قومی اسمبلی اور اکبر ایوب کو صوبائی اسمبلی کے لیے پارٹی ٹکٹ دیے گئے ہیں۔بیٹے کو پارٹی ٹکٹ نہ ملنے پر جماعت اسلامی سے راہیں جدا کرنے والے شیر اکبر خان کو این اے نو بونیر سے ٹکٹ دیا گیا۔ غیر مصدقہ اطلاعات میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ان کے بیٹے کو بھی پارٹی ٹکٹ جاری کیے جانے کی توقع ہے۔

 یہ بھی پڑھیں: تحریک انصاف کے اہم رہنماؤں کو ٹکٹ کیوں نہ مل سکا؟
نوجوانوں کی جماعت کے حوالے سے پہچان رکھنے والی جماعت نے ٹکٹوں کی تقسیم میں بزرگ امیدواروں کو ترجیح دی ،اس کا یقیناً مقصد زیادہ سے زیادہ سیٹوں کو پکا کرنا ہے لیکن سوال یہ ہے کہ اگر پورے نہیں کرسکتے تو ایسے وعدے کرتے ہی کیوں ہیں،ایسے منشور بناتے ہی کیوں ہیں؟اگر اس میں پارٹی چیئرمین عمران خان کی مرضی شامل نہیں تھی یقینا ہوگی بھی نہیں۔تو کیا عمران خان مخصوص ٹولے کے ہاتھوں یرغمال بن چکے یا پھر اپنے وزیر اعظم بننے کی خواہش کے ہاتھوں مجبور؟کیا ایسے حال میں وہ اپنا ایجنڈا پورا کرپائیں گے؟یہ سوالات ان کا پیچھا کرتے رہیں گے۔