شہرِ قائد سے مزید افغانی ڈکیت گرفتار، ماسٹر مائنڈ کا پتہ چل گیا


کراچی (24 نیوز) شہر قائد کے پوش علاقوں میں چار برس سے لوٹ مار کرنے والے افغانی گروہ کا انکشاف ہوا۔ جس کے بعد رینجز اور پولیس کی آنکھ کھلی۔

پولیس نے چھاپے مارے اور کئی ڈکیت گرفتار بھی کیے لیکن افغانی گروہ کے کارندے ہاتھ نہ آئے۔ پھر وہ وقت بھی آیا جب پولیس کو کامیابیاں ملنا شروع ہوئیں اور افغانی گروہ کی لوٹ مار کا سدِ باب ڈھونڈ لیا گیا۔

پہلے ہونے والی گرفتاریوں کے بعد ایک راستہ ملا جس پر چلتے ہوئے کراچی میں لوٹ مار کرنے والے افغان گروہ کے مزید 3کارندوں کو گرفتار کر لیا گیا۔ چالاک ملزم افغان سمیں اور پاکستانی شناختی کارڈ استعمال کرتے تھے۔

تفصیلات کے مطابق شہر قائد کے پوش علاقوں میں امیر ترین شہریوں کے گھروں میں لوٹ مار کرنے والے افغان ڈکیت گروہ کے مزید تین کارندوں کو پولیس نے مقابلے کے بعد گرفتار کر لیا۔

یہ بھی پڑھئے:کراچی میں داعش گھس آئی، اہم دہشتگرد پکڑا گیا، ایف آئی اے کے سامنے سب راز اُگل دیئے 

ایس پی کلفٹن توقیر نعیم کا کہنا تھا کہ ملزمان نے پاکستانی قومی شناختی کارڈ بھی بنا رکھے اور رابطہ کے لیے افغان نیٹ ورک کی موبائل فون سمیں استعمال کرتے تھے۔ 40سے زائد کارندوں پر مشتمل گروہ کے 10 کارندے ابت ک پولیس کے ہتھے چڑھ چکے ہیں۔ جن میں سے دو مارے گئے اور 8 گرفتار ہوئے۔

ایس پی توقیر نعیم کے مطابق کراچی کی وارداتوں میں ملوث گروہ کا اہم کارندہ افغانستان، کندھار کا ٹائون ناظم حمید اللہ ہے۔ جرائم سے حاصل ہونے والی دولت کے دہشتگردی میں استمعال ہونے اور گروہ کے پاکستانی سہولت کاروں کے حوالے سے تحقیقات کی جا رہی ہے

دوسری جانب ریلوے پولیس نے لاہور سے کراچی آنے والی علامہ ایکسپریس میں چھاپہ مارکر خواتین اسمگلرز کو گرفتار کرلیا۔ پولیس کے مطابق 6 خواتین پر مشتمل ایک گروہ سے کارروائی کے دوران 73 کلوگرام چرس برآمد کرلی گئی۔

مزید اس ویڈیو میں دیکھیں: