معصوم زینب کا والد مشکلات کا شکار،ایک بار پھر سپریم کورٹ میں دہائی


لاہور (24نیوز) زینب قتل کیس کے بارے میں تو سب کو معلوم گا،جی وہی معصوم زینب جسے قصور میں ایک درندے نے اپنی حوس کا نشانہ بنانے کے بعد بے دردی سے قتل کردیا تھا، مقتولہ کی لاش ایک گندگی ڈھیر کے قریب سے ملی تھی،جب زینب کا قتل ہوا تو اس کے والدین عمرہ کی ادائیگی کیلئے حجاز مقدس میں موجود تھے۔
جب قتل اور لاش ملنے کی خبر پھیلی تو پورا ملک سراپا احتجاج بن گیا،دیکھتے ہی دیکھتے یہ کیس ہائی پروفائل بن گیا،قصور میں ہنگامے پھوٹ پڑے،حکومت،چیف جسٹس اور آرمی چیف نے اس پر نوٹس لیا۔
چیف جسٹس اف پاکستان میاں ثاقب نثار نے زینب کے والدین کی پکار سنتے ہوئے بچی کے قتل کے واقعے پر ازخود نوٹس لے لیا،چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار نے زینب کے قتل کے واقعے پر ازخود نوٹس لیتے ہوئے آئی جی پنجاب سے رپورٹ بھی طلب کی تھی۔
تمام سکیورٹی فورسز اور خفیہ اداروں کو ملزم کی تلاش کیلئے مامور کیا گیا جنہوں نے انتھک کوشش کے بعد قاتل کو ڈھونڈ نکالا اور عدالت میں مقدمہ چلا ،ایک ماہ سے زائد عرصہ تک مقدمہ کی سماعتیں ہوئیں اور قاتل کو چار مرتبہ سزائے موت سمیت دیگر سزائیں دینے کا فیصلہ سنایا گیا لیکن تاحال قاتل کو پھانسی نہیں دی گئی ہے،والدین کا مطالبہ ہے کہ مجرم کو اسی جگہ پھانسی پر لٹکایا جائے جہاں سے معصوم زینب کی لاش ملی تھی۔
قصور میں جنسی زیادتی کے بعد قتل ہونے والی ننھی زینب تو منوں مٹی تلے جاکر سوئی لیکن والدین کی مشکلات ابھی تک کم نہیں ہوئی ہیں، والد ین عدم تحفظ کا شکار ہیں،والد کی جان کو خطرہ درپیش ہے،انہوں نے تحفظ فراہم کرنے کیلئے سپریم کورٹ میں درخواست جمع کرادی ہے۔ننھی زینت کے والد حاجی امین انصاری نے موقف اپنایا ہے کہ اسے مجرم عمران کے اہلخانہ ہراساں کر رہے ہیں۔ زینب کے والد نے استدعا کی ہے کہ زینب قتل کیس میں مجرم عمران کے سہولت کاروں سے تفتیش نہیں کی گئی ، عمران کے سہولت کاروں کو گرفتار کیا جائے۔زینب کے والد امین انصاری سپریم کورٹ رجسٹری لاہور پہنچ چکے ہیں اور کچھ دیر میں چیف جسٹس آف پاکستان سے ملاقات کریں گے۔

اظہر تھراج

صحافی اور کالم نگار ہیں،مختلف اخبارات ،ٹی وی چینلز میں کام کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں