گورنر سندھ کیلئے بری خبر، صوبائی حکومت نے مفلوج کر کے رکھ دیا


 کراچی(24نیوز) سندھ اسمبلی نے صوبے کی یونیورسٹیوں کے چانسلر کے اختیارات گورنر سسندھ ے واپس لیکر وزیر اعلی سندھ کے سپرد کرنے سمیت تین بل کثرت رائے سے منظور کرلئے۔اپوزیشن جماعتوں نے اجلاس کی کارروائی کا ہی بائیکاٹ کردیا۔

 تفصیلات کے مطابق ڈپٹی اسپیکر شہلا رضا کی زیر صدارت ہوا سندھ اسمبلی کا اجلاس تو حکومت اور اپوزیشن کی ٹھن گئی۔ صوبائی وزیر نثار احمد کھوڑو نے صوبے کی یونیورسٹیز ایکٹ 2018 ترمیمی بل پیش کیا تو اپوزیشن نے اس بل کی مخالفت کی اور بائیکاٹ کرکے ایوان سے ہی چلے گئے۔سندھ اسمبلی نے اپوزیشن کی غیر موجودگی میں یونیورسٹیز ایکٹ 2018 میں ترمیم کرکے یونیورسٹیز میں چانسلر کے اختیارات گورنر سندھ سے واپس لیکر وزیر اعلی سندھ کے سپرد کرنے کا بل کثرت رائے سے منظور کرلیا۔

یہ پھی پڑھیں:سندھ اسمبلی: این ٹی ایس ٹیسٹ پاس اساتذہ کی مستقلی کا بل پاس

سندھ اسمبلی نے ٹنڈو محمد خان میں ماڈرن یونورسٹی اور نجی سہیل یونیورسٹی کے قیام کے بل بھی کثرت رائے سے منظور کرلئے۔ڈپٹی اسپیکر ارکان اسمبلی کے توجہ دلائو نوٹس کا جواب نا ملنے اور 6 وزراء کی ایوان میں غیر حاضری پر برہم ہوگئی اور وزراء کو آڑے ہاتھ لے لیا صوبائی وزیر نثار احمد کھوڑو سے پوچھا وزراء کہاں ہے اور رولنگ بھی دے دی کہا وزراء کی ایوان میں حاضری کو یقینی بنایا جائے۔

شہلا رضا اجلاس میں جھگڑوں کی کوریج پر میڈیا سے بھی ناراض ہوگئی اور شکوے کرتی رہی، ڈپٹی اسپیکر نے اجلاس میں ایجنڈے کو اپوزیشن کی غیر موجودگی میں مکمل کرکے اجلاس کی کاروائی پیر صبح دس بجے تک ملتوی کردی۔