طالبان نے حملوں کی دھمکی دے دی، امریکہ حواس باختہ


واشنگٹن (24 نیوز) امریکہ نے تحریک طالبان پاکستان کے سربراہ ملا فضل اللہ سمیت تین دہشت گردوں کے سر کی قیمت مقرر کر دی ہے۔ قوام متحدہ طالبان سے مذاکرات کی ضرورت پر زور دے رہا ہے۔ سیکریٹری جنرل کا کہنا ہے کہ طالبان کو افغان حکومت کی پیشکش قبول کرلینی چاہئے۔ 

امریکی محکمہ خارجہ کے بیان میں ٹی ٹی پی کے سربراہ ملا فضل اللہ سمیت جماعت الاحرار کے سربراہ عبدالولی اور منگل باغ کے سر کی قیمت کا اعلان کیا گیا ہے۔ بیان کے مطابق ملا فضل اللہ کے بارے اطلاع دینے والےکو پچاس لاکھ، عبدالولی اور منگل باغ کی خبر دینے پر تیس لاکھ امریکی ڈالر انعام دیا جائے گا۔

 یہ بھی پڑھئے: افغان حکومت نے طالبان کو سیاسی جماعت تسلیم کرلیا

امریکہ نے یہ بیان ایسے وقت میں داغا کہ جب پاکستانی سیکرٹری خارجہ تہمینہ جنجوعہ امریکہ میں موجود ہیں۔

ادھر اقوام متحدہ نے طالبان سے مذاکرات کی حمایت کا اعلان کر دیا ہے۔ سیکرٹری جنرل کے نمائندہ خصوصی کے مطابق طالبان افغان حکومت کی مذاکرات کی پیش کش قبول کر لیں، انہوں نے کہا طالبان کو افغان عوام کی مشکلات کے خاتمے کیلئے آگے آنا ہوگا۔

 

امریکی دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ پاکستانی طالبان نے امریکہ پر حملوں کی دھمکی دی ہے۔ ٹی ٹی پی نے پہلے بھی امریکی مفادات کے خلاف حملوں کی ذمہ داری قبول کر رکھی ہے۔

 ضرور پڑھئے: امریکہ نے مدد کی، پاکستان نے دھوکہ دیا، ڈونلڈ ٹرمپ 

واضح رہے کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پاکستان نے سب سے زیادہ قربانیاں دی ہیں۔ لیکن امریکہ کی جانب سے ڈو مور مطالبہ نے سب کیے کرائے پر پانی پھیر کر یہ تاثر دیا کہ پاکستان کی جانب سے کچھ نہیں کیا گیا۔

 

امریکی صدر کی جانب سے پاکستان مخالف متعدد الزامات بھی سامنے آئے اور کڑی تنقید بھی دیکھنے میں آئی۔ بالآخر امریکہ کو پاکستان کے گھٹنوں پر جھکنا ہی پڑ گیا۔

 متعلقہ خبر: آخر کار امریکہ کو پاکستان کے سامنےگھٹنوں پر جھکنا ہی پڑ گیا 

بلاشبہ پاکستان کی جیت ہر جنگ میں ہوئی ہے اور ہوتی رہے گی۔افغانستان میں طالبان کے خلاف جنگ میں ناکامی پر پاکستان کو موردِ الزام ٹھہرانا کہاں کی دانشمندی تھی۔ اور یہ امریکہ کی جانب سے دیا جانے والا حالیہ بیان بھی اسی کی کڑی ہے۔