عوام کو ریلیف دینے کی باری آتی ہےتو ٹیکس لگ جاتا ہے: چیف جسٹس

عوام کو ریلیف دینے کی باری آتی ہےتو ٹیکس لگ جاتا ہے: چیف جسٹس


اسلام آباد(24نیوز) پٹرولیم مصنوعات پر ہوشربا ٹیکسز کے اطلاق سے متعلق کیس، سپریم کورٹ،بلوچستان میں پانی کی قلت پرسماعت ہوئی۔

تفصیلات کے مطابق  پٹرولیم مصنوعات پر ہوشربا ٹیکسز کے اطلاق سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس دیئے کہ پٹرولیم مصنوعات پر 25 فیصد ٹیکس لگتا ہے۔ عالمی مارکیٹ میں قیمتیں کم ہوں تو سیلز ٹیکس لگا دیا جاتا ہے۔جب عوام کو ریلیف دینے کی باری آتی تو ٹیکس لگ جاتا ہے۔

یہ بھی دیکھیں:

یہ بھی ضرور پڑھیں:جنوبی پنجاب محاذ کی بلی تھیلےسےباہر آگئی 

 دوسری جانب  بلوچستان میں پانی کی قلت پرسماعت ہوئی۔ سابق وزرائے اعلیٰ ثنا اللہ زہری اورعبدالمالک بلوچ سپریم کورٹ میں پیش ہوئے۔چیف جسٹس نے سوالات کی پوچھاڑ کرتے ہوئے پوچھا کہ بلوچستان میں جھیلیں سوکھ گئیں۔آپ نے کیا اقدامات کیے۔ بجٹ کا ایشو مت بتائیے گا کہ پیسہ نہیں ہے۔ عبدالمالک بلوچ نےجواب دیا  کہ حکومت کو فعال کرنے کی بہت کوشش کی۔لا اینڈ آرڈر کے بغیر کچھ درست نہیں ہو سکتا ۔عدالت نے آئی جیز ایف سی جنوبی اور شمالی کو آئندہ سماعت پر طلب کرلیا۔