اقوام متحدہ میں عمر خالد خراسانی پر پابندی کی پاکستانی تجویز مسترد

اقوام متحدہ میں عمر خالد خراسانی پر پابندی کی پاکستانی تجویز مسترد


(24نیوز) عالمی برادری کے دہرے معیار، عالمی دہشتگرد تنظیم پر پابندی لیکن دہشتگرد تنظیم کا امیر پابندی سے مستثنا ،  عالمی کالعدم دہشتگرد تنظیم جماعت الاحرار کے امیر عمر خالد خراسانی عرف عبدالولی پر اقوام متحدہ سلامتی کونسل میں پابندی کی پاکستان کی تجویز مسترد کردی گئی۔

تفصیلات کے مطابق عالمی کالعدم دہشتگرد تنظیم جماعت الاحرار کے امیر عمر خالد خراسانی عرف عبدالولی پر اقوام متحدہ سلامتی کونسل میں پابندی کی پاکستان کی تجویز مسترد کردی گئی،  عمر خالد خراسانی پر پابندی کی تجویز پاکستان نے اقوام متحدہ سیکیورٹی کونسل میں پہلی مرتبہ 6 جولائی 2017 کو دی تھی۔ عمر خالد خراسانی پر پابندی عائد کرنے کی پاکستان کی تجویز 4 مئی 2018 کو مسترد  کی گئی۔

پڑھنا مت بھولیں:جنوبی پنجاب محاذ تحریک انصاف میں ضم

پاکستان نے عمر خالد خراسانی پر اقوام متحدہ کی قرارداد 1267 کے تحت پابندی لگانے کی تجویز دی تھی۔سفارتی زرائع کے مطابق جماعت الاحرار عالمی دہشتگردوں کی فہرست میں شامل ہے اور اس تنظیم پر پابندی عائد ہے، دہشتگرد کالعدم تنظیم کے سربراہ پر پابندی عائد نہ کرنا حیران کن ہے۔

سفارتی ذرائع کا کہنا تھا کہ جماعت الاحرار پر پابندی مگر امیر پر پابندی کو مسترد کرنا عالمی برادری کے دوہرے معیار کا عکاس ہے، پاکستان ناکامی کے باوجود دوبارہ عمر خالد خراسانی پر پابندی کے لیےکوشش کرے گا، ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر فیصل نے کہا کہ عمر خالد خراسانی پاکستان میں دہشتگردی کے بڑے حملوں میں ملوث ہے، اُس پر پابندی کی تجویز مسترد ہونے پر مایوسی ہوئی۔

عمر خالد خراسانی 27 مارچ 2016 کو لاہور میں ایسٹر کے موقع پرحملے میں ملوث ہے، عمر خالد خراسانی 13 فروری 2017 کو لاہور مال روڈ پر ایس ایس پی اور ڈی آئی جی پر حملے اور قتل میں بھی ملوث ہے۔