’’ضرورت ہے پرانے چہروں کی‘‘ پی ٹی آئی کا حقیقی منشور


لاہور (24 نیوز) الیکشن کے موسم میں سیاستدانوں کی قلابازیاں تو ہمیشہ سے مشہور رہی ہیں لیکن پاکستان تحریک انصاف نے تو جیسے ’’ضرورت ہے پرانے سیاستدانوں کی‘‘ کا بورڈ لگا رکھا ہے۔

پرانے اور آزمائے چہروں کی پی ٹی آئی میں جوق در جوق آمد نے ’نیا پاکستان‘ کے نعرہ پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔ آج کل تو ہر طرف ’’چلو چلو بنی گالا چلو‘‘ کی صدائیں گونج رہی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: تحریک انصاف نے جنوبی پنجاب کا ’محاذ‘ سر کر لیا 

تبدیلی کی دعویٰ دار پاکستان تحریک انصاف کو نیا پاکستان بنانے کے لیے پرانے پاکستان کے مستریوں سے ہی رجوع کرنا پڑ رہا ہے۔ اس کی حالیہ مثال مسلم لیگ ن سے منحرف 7 ارکان اسمبلی جنوبی پنجاب صوبہ محاذ کی شکل میں عمران خان کا ہاتھ تھام چکے ہیں۔

اگر بات کریں پیپلز پارٹی کی تو اب تک اس کے 14ارکان پی ٹی آئی کے جھنڈے تلے آ چکے ہیں۔ جن میں فرودس عاشق اعوان، ندیم افضل چن، نذر محمد گوندل، شفقت محمود، شاہ محمود قریشی، بابر اعوان، راجہ ریاض، صمصام بخاری، فواد چودھری، مصطفیٰ کھر، امتیاز صفدر وڑائچ، اشرف سوہنا، نور عالم خان اور رانا آفتاب خان شامل ہیں۔

پڑھنا نہ بھولیں: کپتان ن لیگ کے گھر میں نقب لگانے کو تیار, مزید وکٹیں گرائیں گے 

ق لیگ سے بھی جہانگیر ترین، عامر ڈوگر، علیم خان، غلام سرور، ظہیرالدین بابر، طاہر صادق، ریاض فتیانہ اور سعید ورک پی ٹی آئی کا ٹکٹ کٹا چکے ہیں۔

متحدہ مجلس عمل والے بھی پیچھے نہ رہے اور اعظم سواتی، فیاض چوہان، سمیع الحق بھی نیا پاکستان بنانے کے لیے تحریک انصاف کا حصہ بن گئے۔

اختر کانجو، لیاقت جتوئی، ممتاز بھٹو، چودھری سرور اور رمیش کمار بھی ن لیگ چھوڑ کر پی ٹی آئی کی کشتی میں سوار ہونے والوں میں شامل ہیں۔ اس سیاسی ہلچل میں عامرلیاقت کی شکل میں ایم کیوایم کی بھی ایک پتنگ پی ٹی آئی کے آنگن میں جا گری۔

ضرورپڑھیں:پیپلزپارٹی، تحریک انصاف کو کراچی میں کن شرائط پر جلسوں کی اجازت ملی؟ 

جوں جوں الیکشن قریب آ رہے ہیں سیاستدانوں کی قلابازیوں میں بھی تیزی سے اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ انتخابات کی گرما گرمی کے حالیہ ماحول میں پارٹی وفا داریاں بدلنے کا سلسلہ ابھی تھمتا نظر نہیں آتا۔