گوجرانوالہ: چار ماہ سے مریض خوار، انتظامیہ خاموش تماشائی

گوجرانوالہ: چار ماہ سے مریض خوار، انتظامیہ خاموش تماشائی


  گوجرانوالہ (24نیوز)  ڈی ایچ کیو اسپتال میں مریض ایک بار پھر خوار ہونے لگے شوگر کے مریضوں کی ادویات پچھلے چار ماہ سے ختم ہیں انتظامیہ خاموش تماشائی بنی بیٹھی ہے۔ مریضوں کو اس بارے میں کن مشکلات کا سامنا ہے۔

تفصیلات کے مطابق گوجرانوالہ کے  ڈی ایچ کیو اسپتال میں مریض ایک بار پھر خوار ہونے لگے شوگر کے مریضوں کی ادویات پچھلے چار ماہ سے ختم ہیں انتظامیہ خاموش تماشائی بنی بیٹھی ہے۔ مریضوں کو اس بارے میں کن مشکلات کا سامنا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:ملک بھر میں تھیلیسمیا سے بچاؤ کا آج عالمی دن منایا جارہا ہے
 
دوسری جانب امپیریل کالج میں کاشف اقبال تھیلیسیمیا کئیر سنٹر اور امپیریل کالج آف بزنس سٹڈیز کے اشتراک سے تھیلیسیمیا آگاہی سیشن اور واک کا اہتمام کیا گیا۔آگاہی سیشن میں کاشف اقبال تھیلیسیمیا کئیر سنٹر کی پروجیکٹ مینیجر اسماء آصف اور کوآرڈینیٹر آصف حمید بٹ نے بتایا کہ کسطرح سے مائنر تھیلیسیمیا میجر میں تبدیل ہوتا ہے، اسکا کوئی باقاعدہ علاج تو نہیں لیکن شادی سے پہلے اگرٹیسٹ کرا لیا جائے تو مرض کافی حد تک کنٹرول میں آجائے گا۔

 پڑھنا نہ بھولیں:تھیلیسیمیا موذی مرض، صوبائی حکومتوں کی توجہ وقت کی ضرورت ہے: مریم اورنگزیب
 
دو مائنر تھیلیسمیا کے افراد آپس میں شادی نہ کریں بلکہ نارمل انسان سے کر لیں تو اس مرض پر قابو پایا جا سکتا ہے ابھی سالانہ 5000 سے 7000 تک مریضوں کا اضافہ ہو رہا ہے،بڑھتی تعداد سے بلڈ بیگز کا انتظام کرنا بھی مشکل ہو رہا ہے۔ سیشن میں آصف حمید، اسماء آصف سمیت کالج کے ریکٹر اور مختلف فکیلٹی ممبران نے شرکت کی۔

 

 

شازیہ بشیر

   Shazia Bashir   Edito