پی ٹی آئی ارکان اسمبلی کا گورنر سندھ سے معافی کا مطالبہ

پی ٹی آئی ارکان اسمبلی کا گورنر سندھ سے معافی کا مطالبہ


کراچی (24نیوز)پاکستان تحریک انصاف ایک اور مشکل میں پڑ گئی، گورنر سندھ عمران اسماعیل نے تبدیلی سرکار کے ارکان کیلئے ایک اور مشکل پیدا کردی۔

پی ٹی آئی کے ارکان اپنے علاقوں میں شکل دکھانے کے لائق نہیں رہے قومی و صوبائی اسمبلی کے ارکان اپنے علاقوں میں جانے کیلئے سخت ہریشان نظر آتے ہیں، گورنر سندھ عمران اسماعیل کے سندھ تقسیم کی بات کرنا ارکان اسمبلی کو مشکل میں ڈال دیا۔

سندھ اسمبلی کے ایک سردار سمیت 6 ارکان اپنے گھر جانے سے ڈرنے لگے، ارکان میں سنجہ کمار دیوان ،سچل جمال احمد صدیقی ،دعا بھٹو، حلیم عادل شیخ اور شہریار شامل ہیں، قومی اسمبلی کے پریشان ارکان قومی اسمبلی میں سردار علی محمد مہر لال مالھی، ڈاکٹر رمیش کمار جئہ پرکاش اکرانی اور نزہت پٹھان شامل ہیں۔

ارکان اسمبلی نے وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی کو شکایت کی ہے کہ گورنر سندھ عمران اسماعیل نے ایم کیو ایم کے موقف کی حمایت کرکے پی ٹی آئی کا مورال ختم کردیا ، پی ٹی آئی ارکان کا کہنا ہے کہ  گورنر کے موقف کے بعد سندھ میں خطرناک رد عمل آسکتا ہے، ہم علاقوں میں کیسے جائیں؟ عوامی رد عمل کا ہم سامنا نہیں کرسکتے، گورنر سندھ   عوام سے معافی مانگیں۔

پریشان ارکان اسمبلی کا یہ بھی کہنا تھا کہ  پی ٹی آئی کی قیادت اپنی پالیسی واضح کرے ورنہ سندھ کی تقسیم کے موقف کو ہم سختی سے مسترد کرتے ہیں، سیاست اپنی جگہ سندھ کے خلاف کسی قسم کی بات برداشت نہیں کریں گے، گورنر سندھ اسمبلی اجلاس سے قبل معافی مانگیں ورنہ ہم صورتحال پر قابو نہیں پاسکتے۔

گورنر سندھ کو اس طرح کا موقف اختیار کرنا. ایک بڑی سازش لگتا ہے، پی ٹی آئی پارلیمینٹرین نے گورنر سندھ سے بھی رابطےکیے ہیں ،گورنر اپنے موقف پر ڈٹ گئے جو کہا پالیسی بیان تھا ارکان اسمبلی میرے موقف کی تائید اور دفاع کریں گورنر نے ارکان اسمبلی کو صاف جواب دیدیا۔

اظہر تھراج

Senior Content Writer