العزیزیہ ریفرنس:نیب پراسیکیوٹر،خواجہ حارث میں جھڑپ

العزیزیہ ریفرنس:نیب پراسیکیوٹر،خواجہ حارث میں جھڑپ


اسلام آباد( 24نیوز ) العزیزیہ ریفرنس میں سابق نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث کو سوالنامہ فراہم کر دیا گیا،ابتدائی طور پر ملزم کو 50 سوالوں پر مشتمل سوالنامہ دیا گیا ہے، العزیزیہ ریفرنس میں سابق وزیراعظم نوازشریف بطور ملزم اب پیر 12 نومبر کو احتساب عدالت اسلام آباد میں 342 کا بیان قلمبند کرائیں گے۔
احتساب عدالت کے جج ارشد ملک نے نیب کی جانب سے نئی دستاویزات پیش کرنے سے متعلق درخواست پر فیصلہ سناتے ہوئے نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث کا اعتراض مسترد کرتے ہوئے نیب کی درخواست منظور کرلی،فاضل جج نے نیب کو نئی دستاویزات پیش کرنے کی اجازت دی، اس موقع پر نواز شریف کے وکلاء اور نیب پراسیکوٹر کے مابین تلخ کلامی اور جھگڑا بھی ہوا۔
نواز شریف کے وکیل نے کہا کہ میڈیا سے معلوم ہوا کہ ان کے موکل سے پوچھا جانے والا سوالنامہ نیب کے پاس موجود ہے، یہ ثابت کریں کہ اگر خبر غلط ہے تو میں الفاظ واپس لوں گا، یہ وہ پراسیکوٹر ہیں جو میڈیا پر بات کرتے ہیں گالیاں دیتے ہیں۔


اس موقع پر نیب پراسیکیوٹر سردار مظفر عباسی نے کہا ویڈیو سے ثابت کریں میں نے کون سیگالی دی ہے؟خواجہ حارث نے کہا واجد ضیاء آدھا آدھا گھنٹہ ریکارڈ دیکھ کر جواب لکھواتے رہے ہم نے اعتراض نہیں کیا، ہماری باری پر نیب کو پیٹ میں درد ہوجاتا ہے جس پر نیب پراسیکیوٹر نے کہا آپ ذاتی حملے کررہے ہیں، ہم قانون پر عمل کریں گے، فاضل جج نے مداخلت کرتے ہوئے کہا یہ لڑائی والی بات نہیں اب ختم کریں۔