سوشل میڈیا معاشرے پر کیسے اثر انداز ہورہا ہے؟

سوشل میڈیا معاشرے پر کیسے اثر انداز ہورہا ہے؟


سوشل میڈیا شاید اس نیت سے تخلیق کیا گیا کہ بلا رنگ و نسل و مذہب و ملت کرہ ارض کو اصلی گلوبل ولیج بنا دے گا،ہم اپنے دکھ سکھ رئیل ٹائم میں بانٹنے کے قابل ہو جائیں گے بلکہ ان گنت مشترکہ مسائل کے درجنوں حل بھی ڈھونڈھ سکیں گے۔ شاید پہیے کی ایجاد کے بعد سب سے اہم ایجاد انٹرنیٹ ہے، سوشل میڈیا نے لوگوں کی زباں بندی کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے کالعدم کردیا ہے، اب خبر پر خبر کے ٹھیکیداروں کی اجارہ داری ختم ہو چکی ہے۔ کوئی میرا مضمون چھاپنے سے انکار کرے گا تو میں اسے فیس بک پر ڈال دوں گا، جن ریاستوں میں سوشل میڈیا کو سائبر زنجیر پہنانے کی کوشش کی گئی وہیں کے دس پندرہ سال کے بچوں نے ان زنجیروں کو اڑا کے رکھ دیا،یہ ایک ایسا پلیٹ فارم ہے جس پر کوئی بھی اپنے جذبات کا کھل کر اظہار کرسکتا ہے۔
سوشل میڈیا نے جہاں لوگوں کو بولنے کی آزادی دی ہے تو میلوں دور بیٹھے منچلوں کے دلوں کو بھی جوڑا ہے، پاکستانی نوجوان بھی اس دوڑ میں پیچھے نہیں اور اب تک ایک اندازہ کے مطابق بھارت سمیت مختلف ملکوں سے متعدد لڑکیاں محبت کے ہاتھوں مجبور ہوکرپاکستان آچکی ہیں، ہمسایہ ملک چین سے ”ڈولی“ آئی تو شارجہ سے بھارتی نژاد ننگیتا،جنوبی افریقی لڑکی زہرہ ونزل پاکستانی نوجوان کی محبت میں گرفتار ہوکر چلی آئی،امریکی تحقیقاتی ادارے پیو ریسرچ کے اعداد و شمار کے مطابق امریکہ کے نوجوانوں کی بہت بڑی تعداد انٹرنیٹ، سوشل ویب سائٹس، موبائل فونز اور دیگر ٹیکنالوجی کی مدد سے اپنے رومانوی تعلقات استوار کرتے ہیں،سماجی رویوں، نوجوانوں اور بدلتے وقت کے رواجوں پر نظر رکھنے والے ماہرین کے مطابق دنیا بھر کے نوجوانوں کی بہت بڑی تعداد اپنے تعلیمی اداروں میں بھی رومانوی تعلقات میں مبتلا ہوجاتی ہے۔ نوجوان نصابی اور غیر نصابی سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے سمیت اپنے رومانوی تعلقات پر بھی توجہ دیتے ہیں۔ دنیا بھر میں جہاں تعلیمی میدانوں میں انقلاب آیا ہے وہیں تعلیمی اداروں میں فطری محبت بھی پروان چڑھی ہے۔
یہ دل کا معاملہ تھا اور دلوں کو جوڑتا گیا، پاکستان سمیت دنیا بھر میں اس کے منفی استعمال بھی سامنے آئے ہیں،جعلی اکاﺅنٹس کی بھرمار سے مسائل نے جنم لیا،کئی خواتین نے مردوں کے ہاتھوں بلیک میل ہو کر زندگیاں گنوا بیٹھیں،حال ہی میں سابق ڈی آئی جی گلگت بلتستان کیخلاف ایف آئی نے مقدمہ درج کیا ان پر الزام ہے کہ انہوں نے سابقہ بیوی کی تصاویر فیس بک پر ڈالی ہیں،اسی طرح متعدد واقعات ہیں جو معاشرے کیلئے ناسور بنے،ایف آئی اے کی رپورٹس کے مطابق سائبر کرائم سیل میں سب سے زیادہ شکایات جنسی ہراسمنٹ کی موصول ہوئی ہیں،رواں سال ادارے کو 2,295شکایات موصول ہوئیں، 255مقدمات درج کیے گئے اور 209افراد کو گرفتار کیا گیا،توہین مذہب اور نفرت انگیز مواد پھیلانے پر سزائیں بھی سنائی گئیں،رواں سال سائبر کرائم کی شرح ماضی سے زیادہ ہے۔
دنیا بھر میں حکومتوں کے اقدامات سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ سب سے بڑا خطرہ سوشل میڈیا ہے، مقبوضہ کشمیر میں بھارت نے اسے بین کررکھا ہے تو امریکہ میں مڈٹرم الیکشن کے دوران فیس بک کے 30 اور انسٹاگرام کے 85 اکانٹس بندکردیئے گئے،ان اکاﺅنٹس پر الزام یہ عائد کیا گیا کہ یہ انتخابی نتائج پر اثر انداز ہورہے تھے اور یہ روسی اور فرانسیسی زبانوں میں تھے۔
حال ہی میں پاکستان میں چلنے والی احتجاجی لہر کے پیچھے بھی سوشل کا ہاتھ بتایا جاتا ہے،وزیر اطلاعات فواد چودھری کے مطابق اشتعال انگیزی پھیلانے والے زیادہ اکاﺅنٹس بھارت اور افغانستان سے آپریٹ ہوتے رہے ہیں، سوشل میڈیا کی طاقت پر حکومت میں آنیوالی پی ٹی آئی اب خود اسی سوشل میڈیاکے بے لگام گھوڑے کو”ریگولیشن“کے کھونٹے سے باندھنا چاہتی ہے،اگر یہ ریگولیٹ ہوگیا تو کسی حد تک غلط اطلاعات اور پروپیگنڈا سے جان چھوٹ جائے گی۔

تحریر:اظہر تھراج