کیا ہماری کوئی عزت نہیں؟

کیا ہماری کوئی عزت نہیں؟


اسلام آباد(24 نیوز)وفاقی وزیرفواد  چودھری  کی نااہلی کے کیس میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے فریقین کو تحریری جواب جمع کرانے کےلیے وقت دے دیا،دوران سماعت فواد  چودھری نے کہا کہ وہ کیس کا سامنا کرنا چاہتے ہیں،پروگرام میں بیٹھ کر انہیں گالی دی گئی،کیا ہماری کوئی عزت نہیں،چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیئے کہ اس کےلیے آپ پارلیمنٹ میں کوئی فورم بنائیں، پارلیمنٹ کو اپنا احتساب خود کرنا چاہیے عدالتوں میں نہیں لانا چاہیے۔

وزیرسائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چوہدری کی نااہلی کےخلاف درخواست پر سماعت چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ جسٹس اطہرمن اللہ نے کی،دوران سماعت فواد   چودھری کا کہنا تھا کہ وہ درخواست قابل سماعت ہونے پر دلائل دینا چاہتے ہیں،انہوں نے درخواست پر اعتراض اٹھاتے ہوئے کہا کہ درخواست گزار نے 2پروگرام کیے کہ ہائیکورٹ نے فواد   چودھری کے خلاف درخواست منظور کر لی۔

فواد چودھری نے عدالت میں موقف اختیار کیا کہ میری بیوی اور بیٹی کی تصاویر ٹی وی پر چلائی گئیں،ان کےخلاف پروگرام کیے گئے۔سوشل میڈیا پرکمپین چلائی جارہی ہے۔

فواد چودھری نے استدعا کی کہ عدالت جرمانہ لگا کر کیس کو ختم کرے تاکہ پھربلیک میلنگ نہ ہو۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ ایسے کیسز پر پروگرام کرنا تو غیرمناسب بات ہے، سمیع صاحب کیا اچھا نہ ہو کہ یہ معاملات پارلیمنٹ میں حل ہوں، سیاسی کیسز عدالت میں آتے ہیں تو عدالتی ساکھ خراب ہوتی ہے۔

درخواست گزار سمیع ابراہیم کا کہنا تھا کہ اس ملک میں وفاقی وزیر ڈی جی ایف آئی اے کے سامنے کسی کو مکا مارے تو ایف آئی آر بھی نہیں ہوتی،یہ قانونی نکتہ ہے،یہ ہمیں بلیک میلر کہتے ہیں حالانکہ یہ خود کرپٹ ہیں،دالت نے فریقین کو تحریری جواب جمع کرانے کےلیے وقت دیتے ہوئے سماعت 3 ہفتوں کےلیے ملتوی کردی۔

اظہر تھراج

Senior Content Writer