گٹگا دہشتگردی ہے، 3 سال نہیں عمر قید ہونی چاہیے: سندھ ہائیکورٹ

گٹگا دہشتگردی ہے، 3 سال نہیں عمر قید ہونی چاہیے: سندھ ہائیکورٹ


کراچی(24نیوز) گٹکا بنانےوالے کو3سال نہیں عمرقید ہونی چاہیے۔ پندرہ روپے کاگٹکا خریدنے اوربیچنےوالا برابرکیسے ہوگئے۔ کیاحکومت سب کو ایک ہی لاٹھی سے ہانکناچاہتی ہے۔

گٹکے کی تیاری اورفروخت پرسندھ ہائی کورٹ کےجسٹس صلاح الدین نےحکومت اورپولیس پر برہمی کااظہارکیا۔سندھ ہائی کورٹ میں گٹکابنانےاورفروخت کرنےوالوں کےخلاف کارروائی کی درخواست پرسماعت ہوئی۔محکمہ صحت کےافسرنےمؤقف اپنایاکہ کراچی کے جناح اسپتال میں سالانہ منہ کےکینسرمیں مبتلا10ہزارمریض لائےجاتے ہیں۔

جسٹس صلاح الدین نےریمارکس دیئے کہ کیاحکومت پوری قوم کوکینسرکامریض بناناچاہتی ہے۔ کیا یہ حالت جنگ نہیں۔ کیا یہ دہشت گردی نہیں؟ گٹکابنانےوالوں کوتین سال نہیں عمرقید ہونی چاہیے۔ پندرہ روپے کاگٹکاخریدنےاوربیچنےوالا برابرکیسےہوگئے۔ کیا حکومت سب کوایک ہی لاٹھی سےہانکناچاہتی ہے۔

عدالت نے پولیس پربھی برہمی کااظہارکیا، کہا کہ گٹکابنانےوالوں کےخلاف کارروائی نہ کرنےپرآئی جی کوکتناشیئرملتا ہے۔ ایس ایس پیزکےاثاثوں کی تحقیقات کرائی جائیں۔ سب معلوم پڑجائےگا۔ملی بھگت کےبغیرگٹکافروخت نہیں ہوسکتا۔ضرورت پڑی تووزیراعلیٰ کوبھی طلب کریں گے۔

سیکرٹری قانون نےعدالت میں مؤقف اختیارکیا کہ قانون سازی کےلیےبل کمیٹی کےسپرد دیاہے۔ ایک ہفتےمیں بل منظورکرلیاجائےگا۔بعدازاں عدالت نے گٹکابنانےاورفروخت کرنےوالوں کےخلاف کارروائی کاحکم دیتے ہوئے فیصلہ محفوظ کرلیا۔

سٹاف ممبر، یونیورسٹی آف لاہور سے جرنلزم میں گریجوایٹ، صحافی اور لکھاری ہیں۔۔۔۔