آزادی مارچ روکنے کیلئے درخواستگزار عدالت کو مطمئن کرنے میں ناکام

آزادی مارچ روکنے کیلئے درخواستگزار عدالت کو مطمئن کرنے میں ناکام


اسلام آباد(24 نیوز)اسلام آباد میں آزادی مارچ روکنے کے لئے دائر درخواست پر دلائل میں درخواست گزار چیف جسٹس اطہر من اللہ کو مطمئن نہ کر سکے، عدالت نے وکیل کرنے کے لئے ایک ہفتے کا وقت دیدیا۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے مولانا فضل الرحمان کے حکومت مخالف آزادی مارچ اور دھرنے کے خلاف دائر درخواست کی سماعت کی۔عدالت نے استفسار کیا کہ کیا دھرنے والوں نے اسلام آباد انتظامیہ سے دھرنے کی اجازت لی ہے،درخواست گزار حافظ احتشام نے عدالت کو آگاہ کیا کہ مولانا فضل الرحمان نے 27 اکتوبرکو لانگ مارچ کااعلان کیا ہے جس کی اجازت نہیں لی۔

چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دئیے کہ احتجاج ہر ایک کا حق ہے، پی ٹی آئی کو بھی اسلام آباد میں احتجاج کی اجازت اسی عدالت نے دی تھی، ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کا کام ہے کہ وہ دھرنے کوریگولیٹ کرے،چیف جسٹس نے درخواست گزار کے وکیل کو کہا کہ آپ کی درخواست قبل از وقت ہے کیونکہ انہوں نے ابھی اجازت ہی نہیں مانگی نہ خلاف ورزی کی، قانون پرعمل درآمد کرانا اسلام آباد انتظامیہ کی ذمہ داری ہے۔

چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ نے ریمارکس دیے کہ ابھی کچھ بھی نہیں ہوا اور اجازت کے بغیر کوئی دھرنا نہیں دے سکتا، احتجاج بنیادی حق ہے لیکن اس سے شہریوں کو پریشانی نہیں ہونی چاہیے۔ عدالت نے درخواست گزار کو وکیل کرنے کیلئے ایک ہفتے کا وقت دیتے ہوئے سماعت ملتوی کر دی۔

اظہر تھراج

Senior Content Writer