مقبوضہ کشمیر :بھارتی فوج نے مذہبی آزادی بھی چھین لی،عزاداروں پر حملے،ایمنسٹی انٹر نیشنل کی مذمت

مقبوضہ کشمیر :بھارتی فوج نے مذہبی آزادی بھی چھین لی،عزاداروں پر حملے،ایمنسٹی انٹر نیشنل کی مذمت


سری نگر(24 نیوز) مقبوضہ کشمیر میں محرم الحرام کی عقیدت میں نکالے گئے جلوسوں کے دوران عزاداروں اور بھارتی فوجی دستوں کے درمیان جھڑپوں کے بعد کرفیو کو مزید سخت کر دیا گیا ہے۔ ایمنسٹی انٹر نیشنل کی مذمت ،بھارت سے انسانیت کو اولیت دینے کا مطالبہ کردیا۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق محرم کا ایک روایتی جلوس پرامن طریقے سے گزر رہا تھا کہ اچانک بھارتی دستوں نے عزاداروں کو روکنے کی کوشش کی جس پر ان کی انڈین فوجیوں کیساتھ جھڑپیں شروع ہو گئیں۔ ان جھڑپوں میں سینکڑوں کشمیری زخمی ہو گئے جبکہ درجنوں کو گرفتار کر لیا گیا۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل بھی مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر بول پڑا،ایمنسٹی انٹرنیشنل کا کہنا ہے ایک ماہ سے زائد عرصہ سے اسی لاکھ کشمیریوں کی زندگیاں پٹڑی سے اترچکی ہیں۔ کشمیر میں ذرائع ابلاغ مکمل بند ہے، جوان، بچے بوڑھے ایک ماہ سے گھروں میں قید ہوکر رہ گئے ہیں،اس بلیک آؤٹ کی انسانیت کو قیمت بھگتنا پڑ رہی ہے، جو نظر انداز نہیں کی جاسکتی،جبکہ کمیونیکشن پر ڈریکونین اور لامحدود پابندی کی وجہ سے لوگ اپنے خاندانوں سے کٹ کر رہ گئے ہیں۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل نے مزید کہا ہےکہ بیماروں اور مصائب میں گھرے کشمیریوں کی مدد کے لئے ڈاکٹروں اور ہیومنٹیرین ورکرز کا کام بہت زیادہ متاثر ہوا ہے، یہ سب درحقیقت کشمیر کے عوام کو اجتماعی سزا کے مترادف ہے،ایک ماہ سے عوام اپنے پیاروں کی خیریت اور سلامتی سے آگاہ نہیں، یہ سب صورتحال نارمل نہیں ہے،انسانیت کو اولیت دیتے ہوئے کشمیریوں کی زبان بندی ختم کی جائَے۔

اظہر تھراج

Senior Content Writer