سینیٹ اجلاس: بھارتی مظالم کیخلاف قرار داد منظور، ایمنسٹی آرڈنینس پر اپوزیشن کا واک آؤٹ

سینیٹ اجلاس: بھارتی مظالم کیخلاف قرار داد منظور، ایمنسٹی آرڈنینس پر اپوزیشن کا واک آؤٹ


اسلام آباد (24نیوز) سینٹ اجلاس میں مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کے خلاف مذمتی قرار داد منظور کر لی گئی۔ ایوان بالا میں اپوزیشن نے ٹیکس ایمنسٹی اسکیم کے لیے صدارتی آرڈیننس واپس لینے کا مطالبہ کر دیا۔

سینیٹ اجلاس میں نہتے کشمیریوں پر بھارتی جارحیت کے خلاف سینیٹر شیری رحمان نے مذمتی قرارداد پیش کی جسے متفقہ طور پر منظور کر لیا گیا۔  اجلاس میں مقبوضہ کشمیر میں بھارتی جارحیت سے شہید ہونے والے کشمیریوں اور افغانستان میں شہید ہونے والوں کے لیے مولانا عطاء الرحمان نے دعائے مغفرت بھی کی۔

یہ بھی پڑھئے: ن لیگ کے 8 ارکان اسمبلی مستعفی، نئے ’محاذ‘ کا اعلان 

اجلاس میں رضا ربانی نے صدرممنون حسین کی جانب سے جاری آرڈیننس پر اعتراض اٹھاتے ہوئے کہا کہ مجھ سمیت پورے ایوان کا استحقاق مجروح ہوا ہے۔ ایسا لگ رہا ہے جیسے پارلیمنٹ کی بلڈنگ کے اطراف میں آرڈیننس فیکٹری لگائی گئی ہے۔ قانون میں اکنامک ایڈوائیزری کونسل کی کوئی حیثیت نہیں، آرڈیننس غیرقانونی ہیں۔

ٹیکس ایمنسٹی اسکیم کے لیے صدارتی آرڈیننس کے اجراء کے خلاف متحدہ اپوزیشن نے واک آؤٹ بھی کیا۔ وزیرمملکت برائے خزانہ رانا محمد افضل کا کہنا تھا کہ ٹیکس ایمنسٹی اسکیم پر تنقید کرنا افسوسناک ہے۔ ہمارے لوگوں کی جائز دولت ہے جسے ملک میں لانا چاہتے ہیں۔

پڑھنا نہ بھولئے: اپوزیشن اتحادیوں نے نگران وزیراعظم کیلئے کوئی نام نہیں دیا، خورشید شاہ 

سینیٹ اجلاس میں مفت تعلیم حق ایکٹ 2012 میں ترمیم کا بل سینیٹر ثمینہ سعید نے پیش کیا جسے متعلقہ کمیٹی کوبھجوا دیا گیا۔ مصطفی نواز کھوکھر نے تعزیرات پاکستان مجموعہ ضابطہ فوجداری میں مزید ترمیم کا بل پیش کیا۔

سینیٹر سسی پلیجو نشستوں کی تقسیم پر برہم ہو گئیں۔ انھوں نے کہا کہ بہت افسوس سے کہنا پڑتا ہے جونئیر سینٹرز نے ہمیں پیچھے دھکیل دیا۔ جونئیرز آگے اور سینیرز پیچھے بیٹھے ہیں۔

خیال رہے کہ سینیٹ اجلاس منگل کی سہ پہرتین بجے تک ملتوی کردیا گیا۔