’’پتھر ہٹانے اور پہاڑ ہلانے کا وقت آچکا‘‘


بیجنگ( 24نیوز ) وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کا کہنا ہے کہ پاک۔چین اقتصادی راہداری ( سی پیک )، 'روڈ اینڈ بیلٹ' کا فلیگ شپ منصوبہ اور باہمی تعاون اور بے مثال ترقی کا شاندار نمونہ ہے۔ 

چین میں منعقدہ باؤ فورم کے سالانہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ سی پیک میں شامل گوادر بندرگاہ عالمی تجارتی مرکز بننے والی ہے، جس سے ترقی کے نئے دور کا آغاز ہوگا، وزیراعظم نے کہا کہ ہائی ویز اور موٹر ویز پر صنعتی منصوبے سی پیک کا اہم حصہ ہیں اور اس طرح چوتھا صنعتی انقلاب دستک دے رہا ہے۔

شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ چین عالمی تجارت میں اہم کردار ادا کر رہا ہے، خصوصاً بیلٹ اینڈ روڈ منصوبہ عالمی اہمیت اختیار کر گیا ہے، پاکستان کی شرح نمو سالانہ 6 فیصد کے حساب سے ترقی کر رہی ہے۔

2050 میں پاکستان کے دنیا کی بڑی معیشتوں میں شامل ہونے کی نوید سناتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان دنیا بھر کے سرمایہ کاروں کے لیے شاندار مواقع پیش کرتا ہے اور علی بابا کمپنی بھی پاکستان میں بڑی سرمایہ کاری کی خواہش مند ہے۔

وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ اقتصادی ترقی اور خوشحالی امن اور برداشت کو فروغ دیتی ہے اور چین، پاکستان اور افغانستان کا سہہ فریقی فریم ورک اسی سلسلے کی کڑی ہے۔

اس موقع پر وزیراعظم نے ایک چینی کہاوت سناتے ہوئے کہا کہ 'پہاڑ ہلانے سے پہلے پتھر ہٹانا ہوتے ہیں'، ساتھ ہی ان کا کہنا تھا کہ 'پتھر ہٹانے اور پہاڑ ہلانے کا وقت آچکا ہے'۔

واضح رہے کہ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی باؤ فورم کے سالانہ اجلاس میں شرکت کے لیے اِن دنوں چین کے دورے پر ہیں،اس سال باؤ فورم کے تحت ہونے والی کانفرنس کا عنوان ’دنیا کی وسیع تر خوشحالی کے لیے ایک آزاد اور جدید ایشیاء‘ رکھا گیا ہے

باؤ فورم ایک غیر سرکاری اور غیر منافع بخش بین الاقوامی تنظیم ہے، جس کا مقصد ایشیائی ممالک اور دنیا کے دوسرے ملکوں کے درمیان اقتصادی روابط اور تعاون کو فروغ دینا ہے۔

یہ کانفرنس 8 سے 10 اپریل تک جاری رہے گی، جس کے دوران وزیراعظم چین کے صدر شی جن پنگ، سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ اور دیگر اعلیٰ حکام سے بھی ملاقات کریں گے۔

وزیرخارجہ خواجہ آصف اور وزیر داخلہ احسن اقبال سمیت اعلیٰ سطح کا وفد بھی وزیراعظم کے ہمراہ ہے۔