ایشیا کا مستقبل ہم متعین کرینگے:چین


بیجنگ( 24نیوز )چینی صدر شی جن پنگ نے اپنا مقصد واضح کرکے امریکہ سمیت پورے مغرب کی آنکھیں کھول دیں،ان کا کہنا تھا کہ ایشیا کا مستقبل کیا ہے اس کا تعین ہمیں کرنا ہے اور تمام ممالک غلبے کی ذہنیت ترک کردیں۔

باؤ فورم اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے چینی صدر نے کہا کہ چین نے ایشیا میں معاشی بحران کے خاتمے کے لیے گراں قدر کام کیا تاہم ہمارے سامنے اب بھی بے شمار مسائل اور بہت سی رکاوٹیں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ دنیا کے بہت سے خطوں میں انسانیت کو غیر یقینی صورتحال کا سامنا ہے، امن اور خوشحالی کی خواہشات کے دور میں سرد جنگ ذہنیت کی کوئی جگہ نہیں، زمینی حقائق اور گلوبل وژن کو ساتھ لے کر چل رہے ہیں۔

شی جن پنگ نے کہا کہ بہت سے ممالک میں لوگ غربت، بھوک اور امراض کا شکار ہیں جب کہ چین عالمی برادری کے ساتھ مل کر معاشی ترقی کو تیز کررہا ہے، چین دنیا کی دوسری بڑی معیشت ہے جس نے 40 برس میں غیرمعمولی ترقی کی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ’’پتھر ہٹانے اور پہاڑ ہلانے کا وقت آچکا‘‘

یاد رہے کہ ایشیائی علاقائی تعاون کے مستقبل کے جائزے اور اس میں فروغ کے لئے چین کی جانب سے 8 اپریل سے شروع ہونے والی سالانہ باؤ فورم کانفرنس 11 اپریل تک چین کے صوبے ہائے نان میں جاری رہے گی۔

واضح رہے وزیرخارجہ خواجہ آصف اور وزیر داخلہ احسن اقبال سمیت اعلیٰ سطح کا وفد بھی وزیراعظم کے ہمراہ اس کانفرنس میں شریک ہے وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے بھی اس کانفرنس سے خطاب کیا ہے۔