وزیر اعظم تو بڑے ہینڈ سم ہیں!

تحریر:اظہر تھراج

وزیر اعظم تو بڑے ہینڈ سم ہیں!


”اتنی زیاد ہ چیزیں اچھی ہونیوالی ہیں،سٹاک ایکسچینج،انڈسٹری،پراپرٹی،میڈیا میں اتنی نوکریاں آنیوالی ہیں کہ خوشحالی آجائے گی،پان والا،ٹھیلے والا کہے گا مجھ سے ٹیکس لے لو،اگر ایسا نہ ہوا تو میری تکہ بوٹی کردینا“یہ الفاظ کسی عام پارٹی ورکر کے نہیں،نہ ہی یہ کسی نجومی نے پیشنگوئی کی ہے،یہ الفاظ ایک وفاقی وزیر کے ہیں،یہ وہی وزیر ہیں جوکراچی کی سڑکوں پر موٹر سائیکل لے کر نکل پڑتے ہیں،چینی قونصلیٹ پر حملہ ہوا تو پتلوں کے ساتھ گن لگا کر پہنچ گئے،پاک بھارت بار ڈر پر پاک فوج سے اظہار یکجہتی کرتے بھی نظر آئے،مار دھاڑ ان کا انداز ہے، وزیر خارجہ ایک دو ہفتے میں بھارت سے جنگ کے خطرے کا ذکر کر رہے ہیں، وزیر اعظم خود کہتے ہیں تین ہفتے میں خوشخبری سنائی جائے گی اور اب فیصل واوڈا نوکریاں دلوا رہے ہیں اور ہم ہیں کہ زندگی کے چوراہے پر کھڑے سوچ رہے ہیں کہ کس کی مانیں اور کس کی نہیں۔اگر واوڈا صاحب کی بات سچ ہے تو ان کے منہ میں گھی شکر کہ ایسا ہوجائے،ایک اچھے انسان،اچھے مسلمان کو گمان بھی اچھا رکھنا چاہئے۔ایسا نہ بھی ہوا تو کیا فکر ہمارے وزیر اعظم تو ہیڈسم ہیں۔

چند روز پہلے بھی ایسا کچھ سننے کو ملا،صاحب تقریر میں فرما رہے تھے کہ دو کے بجائے ایک روٹی کھاو،جب حالات ٹھیک ہوجائیں تو اڑھائی کھا لینا،زیادہ بھی کھا سکتے ہیں،انہوں نے خوشحالی کیلئے تین چار ہفتے نہیں د و سال کا وقت مانگا،وزیر ریلوے پی ٹی آئی کے تو نہیں لیکن ان پر بھی رنگ انہی کا ہے،وہ روز کوئی نہ کو ئی چھوڑتے ہیں،کبھی کہتے ہیں ایک مہینہ اہم ہے،کبھی کہتے ہیں چند ہفتوں کی گیم ہے،خاتون وزیر موسمیات نے تو حد کردی،فرماتی ہیں کہ یہ جو بارشیں ہورہی ہیں یہ ہمارے وزیر اعظم کی وجہ سے ہورہی ہیں،ان کو جھٹلا بھی نہیں سکتے کیونکہ ہمارے وزیر اعظم ہیں ہی بڑے ہینڈ سم۔

ارسطو کا تو آپ نے سنا ہوگا،وہ فرماتے تھے کہ انسان ایک سماجی جانور ہے،ہمارے وزیر خزانہ بھی وقت کے ارسطو ہیں،ان کا سماجی تو کہیں گم ہو گیا ہے بس جانور ہی بچا ہے،جب ان سے معیشت کے بارے میں سوال کیا جاتا ہے تو آئی سی یو کی بات کرتے ہیں،سکول کا بتاتے ہیں،گھر کی باتیں سناتے ہیں،مایوس تو یہ بھی نہیں کرتے،خواب تو یہ بھی دکھاتے ہیں،کیونکہ وزیر اعظم کی طرح یہ بھی بہت ہینڈ سم ہیں۔

پتا چلا ہے کہ تعلیم کے حوالے سے خیبر پختونخوا حکومت نے 25اضلاح بنائے، 19 اضلاع میں ماڈل تعلیمی پالیسی بالکل ناکام ہوگئی،ایک رپورٹ کے مطابق 2017میں خصوصی منصوبے کے تحت 41ہزار سٹونٹس کو انرول کیا گیا جن میں سے 21ہزار جعلی نکلے،ایک سٹوڈنٹ کے کھاتے میں 11سو روپے ماہانہ ڈالے گئے، ایک ہزار کے حساب سے 2 کروڑ روپے ماہانہ گھپلا بنتا ہے،سالانہ 24 کروڑ روپے بنتے ہیں،ایک ضلع میں 90 سکول ظاہر کیے گئے جب معائنہ کیا گیا تو ان میں سے70 سکول ہی نہیں تھے،اسی صوبے کے دارالحکومت میں ایک شاہکار بن رہا ہے،جو 61 ارب کی لاگت سے وسعت پاتے پاتے 83 ارب تک پہنچ چکا ہے،یہ 6 ماہ میں مکمل ہونا تھا لیکن کئی 6 ماہ گزر چکے ہیں،تم کو اس سے کیا ہمارے وزیر اعظم تو بڑے ہینڈسم ہیں۔

ادارہ شماریات کہتا ہے روا ں سال مہنگائی کی شرح9.41فیصد بڑھی، کھانا پینے کی اشیا ءمیں مہنگائی کی شرح 6.01فیصد رہی،جلد خراب ہونے والی خوراک گذشتہ سال کی نسبت رواں سال 6.10فیصد جبکہ محفوظ رہنے والی اشیا 22.00فیصد مہنگی ہوئیں۔بچوں کے ڈائپرز سے لیکرادویات سب کی قیمتوں میں اضافہ ہوا،بجلی،گیس،تیل،ضروریات زندگی سب مہنگے ہوئے،پھر کیا ہوا تم اس بحث میں نہ پڑو،یہ سب سابقہ حکومتوں کا کیا دھرا ہے،دو سال دے دو سب ٹھیک ہوجائے گا کیونکہ ہمارے وزیر اعظم بہت ہینڈ سم ہیں۔

سانحہ ماڈل ٹاون،سانحہ ساہیوال ،کراچی میں روز روزکے پولیس مقابلے،انصاف کیلئے دہائی دیتے شہری،سب تھوڑا سا وقت دیں،سب ٹھیک ہوجائے گا،یہ سب پرانوں کا کیا دھرا ہے،تھوڑا سا وقت دے دیں کیونکہ ہمارے وزیر اعظم بہت ہینڈ سم ہیں۔

حکومت نے آتے ہی سو روزہ پلان دیا تھا کہ پاکستان کو مدینے کی طرز پر فلاحی ریاست بنائیں گے،بیورو کریسی کو سیاست سے پاک کیا جائے گا،اداروں میں میرٹ لایا جائے گا،فاٹا کو خیبرپختونخوا میں ضم کیا جائے گا(جس کا بہت تک کام سابقہ حکومت نے کردیا تھا)،جنوبی پنجاب کو علیحدہ صوبہ بناکر محروم علاقوں میں اقتصادی پیکج دیا جائے گا،ایک کروڑ نئی نوکریاں پیدا کی جائیں گی،خارجہ پالیسی میں اصلاحات لائی جائیں گی،ملک بھرمیں درخت لگائے جائیں گے،کراچی میں قبضہ مافیا کے خلاف کریک ڈائون کیا جائے گا،اداروں کو سیاست سے پاک کیا جائے گا،ٹیکس کا بوجھ کم کیا جائے گا،بجلی اور گیس کی قیمت کو کم کیا جائے گا،وزیراعظم اسکیم کے تحت 50 لاکھ سستے گھر بنائے جائیں گے نئے سیاحتی مقامات کا اعلان کیا جائے گا،اس سب کے بارے میں نہیں پوچھنا،یہ تو پانچ سال کیلئے ہے،ہم نے تو صرف ”شغل“ میں ہی سو دنوں کا کہا تھا،سابقہ حکومتوں کا گند صاف کرنے کیلئے کچھ وقت تو چاہئیے ناں۔آپ پہلے تو نہیں بولتے تھے اب کیو ں سوال کرتے ہو،لفافے نہیں ملتے اس لئے،تم غلط کہتے ہو ہمارے وزیر اعظم بہت ہینڈ سم ہیں۔

کشکول توڑ دینگے، قرض نہیں کھائیں گے، ملک کو مقروض نہیں کرینگے، جب وزیر اطلاعات سے پوچھا گیا کہ وہ اربوں ڈالر کہاں ہیں جو لوٹ کر باہر بھیجے گئے،ہینڈ سم وزیر سعودی عرب سے آئے مہمانوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولے، آ تو گئے ہیں،ہم نے تو ان ”اربوں“کی بات کی ہے،ان کے رویے پر نہ جائیے،جب لیڈر اچھا ہو تو سب ٹھیک ہوجاتا ہے کیونکہ ہمارے وزیر اعظم بہت ہینڈ سم ہیں۔

یقین مانیے میں نے تو اپنے ہینڈ سم وزیر اعظم کی تصویر اپنی جیب میں رکھ لی ہے،جب بھوک لگتی ہے تو ان کو دیکھ لیتا ہوں،جب پیاس لگتی ہے تو انہی کا دیدار کرلیتا ہوں،بچے سکول جاتے وقت پیسے مانگتے ہیں تو ان کو بھی ایک ایک تصویر دے دیتا ہوں،حتیٰ کہ کوئی بھکاری ہا تھ پھیلاتا ہے تو اس کو بھی یہی تصویر دیتا ہوں،پہلے تو وہ غور سے پہچاننے کی کوشش کرتا ہے پھر اپنی راہ لیتا ہے،شاید اسے بھی سمجھ آگئی ہے کہ اب بابائے قوم کی تصویر والے نوٹ سے نہیں،66 سالہ جوان وزیر اعظم کی فوٹو سے کام چلے گا،اب دور بدل چکا ہے،نسل بدل چکی ہے،اب پرانا نہیں نیا پاکستان ہے،اب تو ہمارے وزیر اعظم بھی بڑے ہینڈسم ہیں،آپ بھی پانچ سال کیلئے یہی نسخہ اپنائیں آفاقہ ہوگا۔

اظہر تھراج

Senior Content Writer