نشان حیدر پانے والے پہلے فوجی سپاہی سوار محمد حسین کا آج 46 واں یوم شہادت


 لاہور (24 نیوز): قوم کے بہادر بیٹے، نشان حیدر پانے والے پہلے فوجی سپاہی سوار محمد حسین شہید کا آج 46 واں یوم شہادت منایا جا رہا ہے، انہوں نے 1971ء کی جنگ میں دشمنان وطن پر کاری ضرب لگا کر اپنی دھاک بٹھائی، سوار محمد حسین کی جرات و بہادری کی یاد آج بھی تازہ ہے۔

 

نشان حیدر پاکستان کا سب سے بڑا اعزاز ہے، یہ اب تک پاک فوج کے 10 شہداء کو مل چکا ہے جنہوں نے وطن کے دفاع کی خاطر اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا، ان میں ایک نام سپاہی سوار محمد حسین شہید کا بھی ہے ، جنہوں نے دشمن کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر جواں مردی سے مقابلہ کیا اور شہادت کا عظیم مقام ان کے حصہ میں آیا۔

 

سوار محمد حسین شہید 1971ء کی پاک بھارت جنگ میں شکر گڑھ سیکٹر پر جرات سے لڑتے ہوئے 22 سال کی عمر میں شہید ہوئے۔ انہوں نے شہادت سے پہلے دشمن کی ایک پلٹون اور 16 ٹینک تباہ کرائے۔ عظیم سپاہی سوار محمد حسین 18 جون 1949ء کو راولپنڈی کی تحصیل گوجر خان کے گاوں میں ایک زمیندارگھرانے میں پیدا ہوئے۔ سوار محمد حسین نے 1966ء میں بطور ڈرائیور پاک فوج میں شمیولیت اختیار کی۔

 

1971 کی جنگ میں سوار شہید کی تعیناتی شکر گڑھ سیکٹر میں ہوئی، جہاں پر انکا کام وائرلیس پر بیٹھ کر احکامات وصول کرنا اور آگے پہنچانا تھا۔ ساتھی سپاہیوں کو فرنٹ لائن پر لڑتا دیکھ کر میدان جنگ میں لڑنے کا جذبہ پیدا ہوا جس کا اظہار انہوں نے اپنے افسر سے کیا۔ جس پر انکی سپاہیوں کو گولہ بارود پہچانے کی ڈیوٹی لگا دی گئی۔

 

سوار محمد حسین نے جنگ میں بے مثال جرات و بہادری کا مظاہرہ کیا۔ اپنی ذہانت اور حکمت عملی سے دشمن کو ناکوں چنے چبوائے۔ دوران جنگ 10 دسمبر 1971ء کو دشمن کی گولیوں کی بوچھاڑ نے ان کا سینہ چھلنی کر دیا اور وہ مرتبہ شہادت پر فائز ہوئے۔

 

واضح رہے کہ نشان حیدر کا اعزاز حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہہ کے نام سے منسوب ہے جن کا لقب حیدر تھا اور ان کی بہادری ضرب المثل ہے۔