ایم کیو ایم اختلافات: فاروق ستار نے آئینی جنگ کا اعلان کر دیا


کراچی (24 نیوز) متحدہ قومی موومنٹ میں نیا پنڈورا بکس کھل گیا۔ متحدہ کے دونوں گروہ کسی طور مفاہمت پر آمادہ نہیں ہورہے۔ فاروق ستار نے واضح الفاظ آئینی جنگ کا عندیہ دے دیا۔

متحدہ پاکستان کے سربراہ ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا ہے کہ اب آئنی جنگ ہو گی۔ میری پیٹھ پیچھے وار کیا گیا۔ پارٹی کا سربراہ میں ہوں میرے سوا کسی کو ٹکٹ دینے کا اختیار نہیں۔ الیکشن کمیشن دوسرے گروپ کا لکھا ہوا خط مسترد کرے۔

رہنما ایم کیو ایم نے کہا کہ تقسیم کا حامی نہیں اور نہ ہی کرنا چاہتا ہوں۔ بہادر آباد والے ہر کام میں پہل کرتے ہیں۔ پورے سندھ کے کارکنوں کو کہتا ہوں۔ اتوار کو کراچی پہنچیں۔ اب آئینی جنگ ہو گی۔ اتوار کو فیصلہ کروں گا، فاروق ستار کو کیا کرنا ہے.

پڑھنا نہ بھولئے: فیصل سبزواری، فاروق ستار کے گلے لگ کر رو پڑے

دکھ کا اظہار کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ متحدہ کو بچانے کا آج یہ صلہ دیا گیا۔ اب کارکن پارٹی بچائیں گے۔ اتوار کی شام کارکنوں کے اجلاس میں رائے لوں گا۔ اجلاس اتوار کو سہ پہر4بجے بلایا جائے گا

فاروق ستار نے کہا کہ میری پیٹھ پیچھے وار کیا گیا ہے۔ صبح میرا بھی الیکشن کمیشن کو خط پہنچ جائے گا۔ پارٹی سربراہ میں ہوں،میرے سوا کوئی ٹکٹ نہیں دے سکتا۔ الیکشن کمیشن کو دوسرے گروہ کا خط مسترد کرنا ہو گا۔ فیصلے کرنے والوں کو شوکاز نوٹس بھجواؤں گا۔ کل شوکاز نوٹس بھجواؤں گا،اگلے دن جواب آنا چاہیے۔

یہ بھی پڑھئے: ایم کیو ایم میں ایک اور مائنس ون کا امکان بڑھ گیا

علی الصباح بہادر پریس کانفرنس سبربراہ ایم کیو ایم فاروق ستار کا کہنا تھا کہ رابطہ کمیٹی کےخط جواب میں میں نے بھی الیکشن کمیشن کو خط لکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ جبکہ پارٹی نظم وضبط کی خلاف ورزی پررابطہ کمیٹی ارکان کو شوکاز نوٹس جاری کیے جائیں گے۔

انھوں نے کہا کہ آج پارٹی کے ذمہ داران اور کارکنان کا اجلاس ہو گاجبکہ کل کراچی میٹرو پولیٹن گراؤنڈ میں کارکنان اورذمہ داران کا اجلاس ہو گا۔ گفتگو میں انھوں نے واضح کیا کہ الیکشن کمیشن کو لکھا گیا خط آئین کی خلاف ورزی ہے۔ رابطہ کمیٹی اور بہادر آباد دفتر پر چند افراد کا قبضہ ہے۔ چند افراد قبضہ کر کے فیصلے کروا رہے ہیں۔

ضرور پڑھئے: ایم کیو ایم رابطہ کمیٹی تحلیل کرنے کا معاملہ زور پکڑ گیا

مفاہمتی انداز اپناتے ہوئے انھوں نے کہا کہ بہادرآباد جانے کے لیے تیار ہوں۔ نان ایشو کو ایشو بنایا جا رہا ہے۔ اجلاس کی صدارت کے لیے تیار ہوں۔ میری نیت میں کھوٹ نہیں۔

مزید انھوں نے وضاحت کی کہ 22 رکن صوبائی اسمبلی میرے ساتھ ہیں۔ کارکن کہیں تو پارٹی کی صدارت چھوڑتا ہوں۔ الیکشن کمیشن کو خط میری اجازت کے بغیر لکھا گیا۔ رابطہ کمیٹی کا الیکشن کمیشن کوخط مجھ پراظہارعدم اعتماد ہے۔ الیکشن کمیشن کو خط لکھنے کی کیا ضرورت تھی۔

کامران ٹیسوری کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ مسئلہ کامران ٹیسوری کا نہیں ہے۔ مجھ سے ٹکٹ دینے کا اختیار واپس لے لیا گیا۔