زینب قتل کیس: مرکزی ملزم عمران فردِ جرم کیلئےطلب


لاہور (24 نیوز) انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت کے جج سجاد احمد نے زینب قتل کیس کے مرکزی ملزم عمران کو فرد جرم کے لیے 12 فروری کو طلب کر لیا۔

تفصیلات کے مطابق انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت کے جج سجاد احمد نے کوٹ لکھپت میں زینب قتل کیس کی سماعت کی۔ عدالت نے ملزم کو طلب کر کے مقدمہ کی نقل فراہم کی اور سماعت 12 فروری تک ملتوی کرتے ہوے استغاثہ کے گواہوں کو آئندہ سماعت پر طلب کر لیا۔

یہ بھی پڑھئے: ’زینب قتل کیس‘ کی سماعت آج کورٹ لکھپت جیل میں کی جائے گی

 ملزم عمران کی طرف سے ایڈووکیٹ مہرشکیل ملتانی عدالت میں پیش ہوئے۔ سماعت شروع ہونے سے پہلے ملزم عمران نے اپنے وکیل سے ملاقات بھی کی۔ عدالت نے سماعت کے بعد ملزم کو نقل بھی فراہم کی۔عدالت میں سرکاری طور پر ڈپٹی پراسیکیوٹر وقار بھٹی عبدالرؤف وٹو اور میڈم فرح ناز بھی پیش ہوئیں۔

زینب قتل کیس میں ملزم عمران کوتفتیش مکمل ہونے کے بعد انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت میں پیش کیا گیا۔ سرکاری وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ملزم کے خلاف چھ شواہد کی تصدیق ہوچکی ہے۔ سکیورٹی رسک کی بنیاد پر ملزم کا جیل ٹرائل منظور کیا جائے۔ عدالت نے ملزم کو دیگر آٹھ مقدمات میں جوڈیشل جبکہ زینب کیس میں جیل ٹرائل منظور کرتے روزانہ کی بنیاد پر سماعت کرنے کا حکم بھی دیا۔

ضرور پڑھئے:صاف پانی کیس، سپریم کورٹ نے وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف کو طلب کر لیا

علاوہ ازیں سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں ازخود نوٹسز کیسز کی سماعت  کے دوران زینب قتل کیس میں آئی جی عارف نوازپیش ہوئے۔ چیف جسٹس پاکستان نے بہتر کارکردگی پر آئی جی کی تعریف کی۔ سوال و جواب کے دوران چیف جسٹس نے پوچھا کہ زینب قتل کیس میں ملزم کی تفتیش پرکیا پیش رفت ہوئی۔

انسپکٹر جنرل عارف نواز نے بتایا کہ ملزم کوجوڈیشل ریمانڈ پرجیل بھجوا دیا ہے۔ ملزم کا چالان بھی متعلقہ عدالت میں پیش کر دیا گیا ہے۔

عدالت نے پولیس کی کارکردگی پر اطمینان کا اظہار کیا۔ چیف جسٹس آف پاکستان نے بہترکارکردگی پر آئی جی کی تعریف کی۔

واضح رہے کہ عدالت نے جمعہ کے دن ملزم عمران کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجا تھا۔ اسی روز عدالت میں ملزم کا چالان بھی پیش کیا گیا تھا۔

مزید جاننے کے لیے ویڈیو دیکھیں: