سینئر صحافی رضوان رضی کو ضمانت پر رہا کرنے کا حکم

سینئر صحافی رضوان رضی کو ضمانت پر رہا کرنے کا حکم


لاہور (24 نیوز) جوڈیشل مجسٹریٹ نے سوشل میڈیا پرنامناسب پوسٹ لگانے کے الزام میں گرفتارصحافی رضوان رضی کی ضمانت منظورکرلی اورانہیں ایک لاکھ روپے مچلکوں کےعوض رہا کرنے کا حکم دے دیا۔

ایف آئی اے نے صحافی رضوان رضی کو ڈیوٹی مجسٹریٹ اسد سجاد کی عدالت میں پیش کیا گیا۔ جوڈیشل مجسٹریٹ نے فریقین کے دلائل کے بعد فیصلہ سنایا اوررضوان رضی کا 14 دنوں کا جسمانی ریمانڈ دینے کی درخواست مستردکرتے ہوئےضمانت منظور کرلی۔ عدالت نے ہدایت کی کہ سیشن کورٹ میں رضوان رضی کے ضمانتی مچلکے جمع کرائے،عدالت نے مچلکے جمع ہونے تک رضوان رضی کوجوڈیشل ریمانڈ پرجیل بھیج دیا۔

جوڈیشل مجسٹریٹ نے اپنے فیصلے میں قراردیا کہ رضوان نے پاکستان، اس کی تخلیق اور سلامتی کیخلاف کوئی بات نہیں کی۔عدالت نے حکم دیا کہ رضوان رضی کیخلاف مقدمہ کا ریکارڈ اور ملزم کو 24 فروری کو سیشن کورٹ میں پیش کیا جائے اس سے پہلے ایف آئی اے نے بتایا کہ رضوان رضی کیخلاف سائبر کرائم ایکٹ کے تحت مقدمہ درج ہے اوراستدعا کی کہ تفتیش کیلئے ان کا ریمانڈ دیا جائے۔

رضوان رضی کے وکلا نے ریمانڈ کی درخواست کی مخالفت کی اوررضوان رضی کے ریمانڈ کو بلاجواز قرار دیا۔عدالت نے فریقین کے وکلا کے دلائل مکمل ہونے پر محفوظ کیاگیا فیصلہ سنایا۔اتوار کی وجہ سے ضمانتی مچلکے جمع نہ ہوسکے جس کی وجہ سے رضوان رضوی ضمانتی مچلکے جمع ہونے تک جوڈیشل ریمانڈ پر جیل رہیں گے۔