ڈپٹی ڈائر یکٹرایف آئی اے کا ماتحت اہلکار پراغوا کے بعد تشدد،متاثرہ شخص عدالت پہنچ گیا

ڈپٹی ڈائر یکٹرایف آئی اے کا ماتحت اہلکار پراغوا کے بعد تشدد،متاثرہ شخص عدالت پہنچ گیا


اسلام آباد(24نیوز)ایف آئی اے اسلام آباد کے سرکش اور لاڈلے ڈپٹی ڈائریکٹر نے لاقانونیت کی تمام حدیں پار کردیں،قبضہ گروپ کو بے نقاب کرنے پر ڈپٹی ڈائریکٹر علی شیر جاکھرانی نے اپنے ماتحت اہلکار غفور شجاع عباسی کو اغوا کے بعد تشدد کا نشانہ بنایا اور بعد از حوالات میں بند کرڈالا،ٹوئٹی فورنیوز پرخبرنشر ہونے کے بعد ایف آئی اے حکام بھی متحرک ہوگئے۔

تفصیلات کے مطابق محکمے سے مایوس کانسٹیبل غفور شجاع عباسی اپنا دکھڑا لے کر سپریم کورٹ پہنچ گیا، اہلکار نے انصاف کے لئے درخواست دائر کر دی، درخواست میں کہا گیا ہے کہ سندھ میں ایک رشتہ دار کے فلیٹ پر قبضہ کرنے والے گروپ کو بے نقاب کیا تو ڈپٹی ڈائریکٹر ذاتیات پر اتر آیا۔

اہلکار شجاع کو ڈپٹی ڈائریکٹر ایف آئی اے ہیڈ کوارٹر ٹریننگ اکیڈیمی سے اغوا کرکے تھانے لے آیا،بغیر کسی مقدمے کے 10 گھنٹے تک غیر قانونی حوالات میں حبس بے جا میں رکھا گیا۔ اتنے سنگین نوعیت کے اس واقعے کی نا کوئی رپورٹ روزنامہ میں درج ہوئی اور ناہی انکوائری ہوئی

متاثرہ اہلکار شجاع عباسی نے سپریم کورٹ سے استدعا کی کہ اسے علی شیر جکھرانی سے جان کو خطرہ ہے تحفظ فراہم کیا جائے،علی شیر کچھ عرصہ قبل سندھ پولیس سے ڈیپوٹیشن پر ایف آئی اے اسلام آباد اینٹی کرپشن سرکل میں ڈپٹی3ڈائریکٹر تعینات ہیں۔

مذکورہ واقع میں ملوث ڈپٹی ڈائریکٹر علی شیر جاکھرانی کے خلاف اعلی افسر تاحال کاروائی سے گریزاں ہیں،، ٹوئٹی فور نیوز پر خبر نشر ہونے کے بعد ایف آئی اے ہیڈ کوارٹر بھی متحرک ہوگیا، کانسٹیبل شجاع عباسی کے ساتھ پیش انے والے واقع سے ڈی جی بشیر میمن کو آگاہ کردیا ،اعلی افسر کو بچانے کے لئے متاثرہ کانسٹیبل پر مختلف ذرائع سے دباو کی کوشش کی جاری کی ہے۔