زینب کا قاتل کون؟کیوں مارا؟حکومت،وزراء،پولیس سراغ لگانے میں ناکام

زینب کا قاتل کون؟کیوں مارا؟حکومت،وزراء،پولیس سراغ لگانے میں ناکام


قصور (24 نیوز) سات سالہ زینب اغوا ہوئی، سی سی ٹی وی فوٹیج سامنے آئی، قتل کر دی گئی۔ لیکن پولیس کے ہاتھ میں دعوؤں کے سوا آج بھی کچھ نہیں۔ قاتل کون؟ کیوں مارا؟ پولیس کوئی بھی سراغ لگانے میں ناکام رہی۔

تفصیلات کے مطابق 7 سالہ زینب کو اغوا کرنے کے بعد قتل کر دیا گیا جس پر علاقہ مکینوں نے سخت احتجاج کیا اور ڈی پی او آفس پر دھاوا بول دیا۔

اس موقع پر مشتعل مظاہرین کی پولیس سے جھڑپ بھی ہوئی، اس دوران مبینہ طور پر فائرنگ سے 2 افراد ہلاک ہو گئے، جس کے بعد کشیدہ صورتحال کے پیش نظر انتظامیہ نے رینجرز طلب کرلی۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز قصور میں شہباز خان روڈ پر کچرے کے ڈھیر سے زینب کی نعش ملی تھی۔ جسے مبینہ طور پر زیادتی کے بعد قتل کیا گیا تھا۔

زینب کی نعش کو پوسٹ مارٹم کے لیے ڈسٹرکٹ ہسپتال منتقل کیا گیا، جہاں اس کا پوسٹ مارٹم کرنے کے بعد لاش کو ورثاء کے حوالے کیا گیا۔ تاہم اس حوالے سے رپورٹ میں بچی کے ساتھ مبینہ زیادتی کی اطلاعات سامنے آئیں۔

دوسری جانب اس واقعے کے بعد قصور کی فضا سوگوار رہی۔ ورثاء، تاجروں اور وکلاء کی جانب سے احتجاج بھی کیا گیا اور تاجروں نے مکمل طور پر شٹر ڈاؤن کر کے فیروز پور روڈ کو بلاک کر دیا جبکہ ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن کی جانب سے بدھ کو عدالتی کارروائی کا بائیکاٹ کیا گیا اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے قاتلوں کی گرفتاری کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

خیال رہے کہ چھ روز قبل 7 سالہ زینب اپنے گھر کے قریب روڈ کوٹ کے علاقہ میں ٹیوشن پڑھنے گئی تھی جہاں اسے اغوا کرلیا گیا تھا۔ جس کے بعد گزشتہ روز پولیس کو زینب کی لاش شہباز خان روڈ پر کچرے کے ڈھیر سے ملی تھی۔

اس واقعے کے حوالے سے ایک سی سی ٹی وی فوٹیج بھی منظر عام پر آئی تھی، جس میں ایک شخص کو بچی کا ہاتھ پکڑ کر لے جاتے ہوئے دیکھا گیا تھا، تاہم پولیس اس واقعہ کے ملزمان کو گرفتار کرنے میں ناکام نظر آئی۔

یاد رہے کہ قصور میں بچیوں کے ساتھ زیادتی اور قتل کا یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں، ایک سال میں اس طرح کے 11 واقعات رونما ہوچکے ہیں، جن میں زیادتی کا نشانہ بنائی گئی بچیوں کو اغوا کرنے کے بعد ریپ کا نشانہ بنا کر قتل کردیا گیا تھا جبکہ ان تمام بچیوں کی عمریں 5 سے 8 سال کے درمیان تھیں لیکن پولیس ملزمان کو گرفتار کرنے میں ناکام رہی ہے۔

ذرائع کے مطابق کسی نے نوٹس لیا، کسی نے حکمرانوں کو موردِ الزام ٹھہرایا اور کسی نے اپنی سیاست کے لیے ڈیڑھ اینٹ کی مسجد بنائی۔ زینب کے قتل پر جس کوجہاں موقع ملاسیاست چمکائی لیکن زینب کے والدین کےآنسو چیخ چیخ کر پکار رہے ہیں کہ ہمیں سیاست نہیں انصاف چاہئے۔