”کتے اور انسان ایک ہی جگہ سے پانی پی رہے ہیں“

”کتے اور انسان ایک ہی جگہ سے پانی پی رہے ہیں“


اسلام آباد( 24نیوز )چیف جسٹس میا ں ثاقب نثار نے کہا ہے کہ بولان میں کتے اور انسان ایک ہی جگہ سے پانی پی رہے ہیں،پورے بولان میں گندہ پانی پلایا جارہا ہے۔

سپریم کورٹ میں بولان میں پینے کے گندے پانی سے متعلق ازخود نوٹس کی سماعت چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کی۔ سماعت کے دوران مقامی رہائشی نے بتایا کہ 72 کلومیٹر تک پانی کا کوئی اور ذریعہ نہیں ہے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا ہے کہ مقامی رہائشی امان اللہ کنرانی کو اس کمیشن کا سربراہ بنایا تھا، یہ تو کہہ رہے ہیں گندہ پانی تو اپنی جگہ پانچ دن بجلی کی فراہمی بھی نہیں ہے، اس وجہ سے وہ پانی بھی پینے کو میسر نہیں، انہوں نے جو رپورٹ جمع کروائی ہے اس کی کاپی دے دیں، ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل بلوچستان یہ رپورٹ بھی کہ آپ کو اپنے علاقے کا علم نہیں۔

ضرور پڑھیں:انکشاف 16 جون 2019

چیف جسٹس نے کہا کہ کتے، جانور اور انسان ایک ہی جگہ سے پانی پی رہے ہیں، گندے پانی میں غلاظت اور کائی جمی ہوتی ہے انسان یہ پانی پینے پر مجبور ہے، پینے کا صاف پانی مہیا کرنا حکومت کی بنیادی ذمہ داری ہے،ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل بلوچستان نے کہا کہ ہم مکمل تعاون کر رہے ہیں۔

چیف جسٹس نے اس پر کہا ہے کہ تعاون کرتے تو تعاون نظر بھی آتا، مقامی رہائشی نے عدالت کو بتایا کہ بھگناری میں آپ کے نوٹس کے بعد دو گھنٹے پانی ملتا تھا اب وہ بھی بند ہوگیا، ویڈیو میں جو آپ نے گندہ پانی دیکھا تھا وہ بھی ختم ہوگیا، لوگوں کو پینے کیلئے پانی میسر نہیں۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ وزیر اعلیٰ بلوچستان کو بلا لیتے ہیں،ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل بلوچستان نے جواب دیا کہ سیکریٹری پبلک ہیلتھ آئے ہیں،اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ ہمیں سیکریٹری ہیلتھ نہیں وزیر اعلیٰ آکر جواب دیں، حکومت کا کام بنیادی سہولیات دینا ہے، کتنی بار کہہ چکے ہیں پانی کے بغیر زندگی کا تصور نہیں، بلوچستان کے لوگوں کے ساتھ کیا ظلم ہورہا ہے، امان اللہ کنرانی کو بلالیں پھر اس معاملے کو دیکھتے ہیں۔

اظہر تھراج

Senior Content Writer