لگثری گاڑیاں استعمال کرنے والوں کی شامت آگئی

لگثری گاڑیاں استعمال کرنے والوں کی شامت آگئی


اسلام آباد ( 24نیوز ) سپریم کورٹ نے ایف بی آر کو ٹمپرڈ گاڑیوں کے آپریشنل استعمال کی اجازت دے دی، گاڑیوں پر آنے والے اخراجات کی تفصیلات بھی طلب کرلی گئیں۔

چیف جسٹس کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے لگثری گاڑیوں کے استعمال سے متعلق کیس کی سماعت کی۔ سماعت کے دوران چیئرپرسن ایف بی آر رخسانہ یاسمین نے اعتراف کیا کہ ایف بی آر میں گاڑیوں کا غلط استعمال ہوتا ہے۔ ایڈیشنل اٹارنی نے بتایا کہ حکومت نے ٹمپرڈ گاڑیوں کے استعمال کے حوالے سے قوانین بنا لیے ہیں۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیئے کہ عدالت حکومت کے بنائے قانون پر آنکھیں بند کرکے ٹھپہ نہیں لگا سکتی۔

یہ بھی پڑھیں:نواز شریف کو ملنے والی سزانےپاکستان اسٹاک ایکس چینج کی مندی بڑھا دی 

چیف جسٹس نے کہا کہ قوانین بنانے ہیں تو ٹمپرڈ گاڑیوں کی نیلامی کے حوالے سے بنائیں، قوانین کی کابینہ سے منظوری کرائیں، کابینہ کی منظوری کے بعد عدالت قوانین کا جائزہ لے گی۔ عدالت نے ٹمپرڈ گاڑیوں کے استعمال پر آنے والے اخراجات کی تفصیلات طلب کرتے ہوئے ایف بی آر کو ایسی گاڑیوں کے آپریشنل استعمال کی اجازت دے دی۔

پڑھنا نہ بھولیں:نگران حکومت نے ن لیگ کا ریکارڈ توڑدیا 

ٹمپرڈ گاڑیوں کا استعمال چیئرمین ایف بی آر کی اجازت سے مشروط ہوگا۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ وزیراعظم سیکریٹریٹ دو قدیمی گاڑیاں فروخت کر رہا تھا لیکن نگران وزیراعظم نے ان گاڑیوں کی فروخت رکی۔ عدالت نے حکم دیا کہ مرکزی اور صوبائی حکومتیں دس سال سے زائد پرانی گاڑیوں کی نیلامی سے متعلق فیصلہ کریں۔ کیس کی سماعت چھ اگست تک ملتوی کردی گئی۔