بجٹ کا انتظار، خوفناک صورتحال

مناظرعلی

بجٹ کا انتظار، خوفناک صورتحال


غریب کے گھربچے کی شادی کے دن جوں جوں قریب آتے ہیں،گھڑے اورڈھول کی آوازگھرکے سربراہ کے دل پرہتھوڑوں کی طرح اثرکرتی ہے،غریب کے سامنے جہاں بچے کی خوشی ہوتی ہے وہیں اسے اپنی اوقات اورجیب کابھی اچھی طرح علم ہوتاہےلہذاوہ مستقبل کی خوشیوں کیساتھ ساتھ ان قرضوں سے بھی پریشان ہوتاہے جس کاسامنے اس نے ایک لمبے عرصے کیلئے کرناہوتاہے،خیرروتے دھوتے،ہنستے مسکراتے،بینڈباجوں اورشرلی پٹاخوں کی آوازوں میں غریب کاغم چھپ جاتاہے۔بالکل ایسی ہی بجٹ کی صورتحال ہے کہ غریب کادل دھک دھک کررہاہے اورحکومت اسے غریب دوست بنانے کے دعوے کرکے عوام کے دکھوں کاقبل ازوقت مداواکرنے کی کوشش کررہی ہے۔

وزیراعظم عمران خان نے اپنی معاشی ٹیم کوعوام دوست بجٹ بنانے کی ہدایت کررکھی ہے، خان صاحب نے بنی گالہ میں ہونے والے ایک اجلاس میں اپنی ٹیم کوممکنہ حدتک کفایت شعاری اورپسماندہ طبقوں کوریلیف دینے کی ہدایت کی ہے،انہوں نے اوربھی بہت کچھ کہاہے حالانکہ ایساکچھ ہونے والانہیں ہے۔

ایک عام پاکستانی کوبجٹ کے اعدادوشمارکی سمجھ نہیں،اس لیے ہم بھی یہاں اس گورکھ دھندے میں نہ ہی پڑھیں توبہترہے،لوگ بجٹ سے جوامیدیں لگاکربیٹھے ہوتے ہیں،انہیں مہنگائی پرکنٹرول چاہیے تاکہ کچن میں استعمال ہونے والی ہرچیزان کی جیب میں دستیاب پیسوں سے خریدنا ممکن ہو،دال روٹی کانام لے کرسستی خوراک مراد لی جاتی ہے مگراب مہنگائی کی صورتحال ایسی ہے کہ یہ سستی خوراک بھی کم آمدن والوں کیلئے پوری کرنامشکل ہے،پھربجٹ پرنظریں جمانے والوں کے اگردل ٹوٹ گئے تو؟پٹرولیم مصنوعات پہلے ہی جس بلندی پرہیں اوراس کی وجہ سے دیگراشیاء کی قیمتیں جہاں پہنچ چکی ہیں،وہ وہی غریب آدمی جانتاہے جوپانچ سو/ہزار روپے کانوٹ لے کربازارجاتاہے اورپھرضرورت کی اشیاء بھی مکمل خریدنہیں سکتا۔کیایہ بجٹ اس طبقے کی خوشیوں کاسبب بنے گا؟امیدنہیں، مگرایساہوگیاتویہ کسی معجزے سے کم نہیں ہوگا، دیکھ لیجیے گا کہ اگراتفاق سے کچھ بہترہوگیاتوحکومت اپنے کھاتے میں ڈالے گی اوراگرنہیں ہوااورامیدبھی اسی کی ہی کی جارہی ہے توملبہ سارے کاساراسابق حکومت پرڈال دیاجائے گاجوکہ ہرسال اورہرحکومت کرتی ہے۔ اس ساری بحث میں آپ ذراسوچیں کہ غریب آدمی کہاں کھڑاہے؟؟ بجٹ میں اُس کیلئے کیاہے؟ مزدورکوبجٹ میں کیاملے گا؟؟کم آمدن والے گھرانوں کیلئے بجٹ میں کیاخوشخبری ہوگی؟صحت اورتعلیم مفت ہوجائے گی؟؟یاکم ازکم سستی؟؟کسانوں کوتیل،کھاد،زرعی ادویات،زرعی آلات سستے ہوجائیں گے؟؟؟ گندم،چاول اورگنے کی قیمت اتنی ہوگی کہ جس سے کسان خوشحال ہوجائے گا؟قدرتی آفات،آندھی،بارش اورسیلاب سے متاثرہ فصلوں پرکاشتکارکوامداد ملے گی؟تنخواہ دار طبقے کیلئے بجٹ میں کچھ ہوگایاپھرمزیدٹیکس لگیں گے۔

اتنے سارے سوالوں پرجواب دوہی طرح کے ہوںگے۔حکومتی حامی لوگ بجٹ کوعوام دوست کہیٰں گے اورمخالفین بجٹ کوعوام کیساتھ زیادتی کے مترادف قراردیں گے۔غیرجانبدارافرادکی رائے معتبرتصورکی جائے گی اوراس کیلئے ہمیں بجٹ کاانتظارکرناہوگا،یہ انتظارمشکل نہیں مگراگربجٹ کے بعدبھی غریب کواپنے دن بدلنے کاطویل انتظارکرناپڑاتووہ فاقوں پرمجبورہوگا،خودکشیاں ہوں گی،آمدن کم اوراخراجات زیادہ پرگھریلوناچاقیاں بڑھیں گی،جرائم جنم لیں گے،چوری،ڈکیتی اورلوٹ مارہوگی،خرچے پورے کرنے کیلئے تاجرمرضی کے ریٹ وصول کریں گے،کاروباربرٰ ی طرح متاثرہونے کاخدشہ ہے۔مختصریہ ہے کہ بجٹ عوام کوکچھ دے نہ سکاتوغریب کی جان ضرورلے گااوریہ صورتحال خدانخواستہ انتہائی خوفناک ہوگی۔

بلاگر کاتعلق پنجاب کے ضلع حافظ آبادسے ہے اوروہ گزشتہ ڈیڑھ دہائی سے پرنٹ والیکٹرانک میڈیاسےمنسلک ہیں، آج کل سٹی نیوزنیٹ ورک میں خدمات سرانجام دے رہے ہیں اور24نیوزکیلئے مستقل بلاگ لکھتے ہیں، انہوں نے"کلیدصحافت"کے نام سے صحافت کے مبتدی طلباء کیلئے ایک کتاب بھی لکھی ہے۔