حکومت نے قرضوں کے سارے ریکارڈ توڑ دیئے


(اسلام آباد ) موجودہ حکومت نے قرضوں کے سارے ریکارڈ توڑ دیے،ساڑھے چار سال میں قرضوں کے بوجھے میں ریکارڈ کی حد تک اضافہ ہوگیا ہے،  گڈ گورننس کے دعوے دھرے  کےدھرے رہ گئے  مسلم لیگ ن حکومت نے قرضوں کے سارے ریکارڈ توڑ دیے، قرضوں کا بوجھ اب عوام کے جیبوں پر منتقل ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے جبکہ حکومت کی عوام کو قرضوں کے بوجھ تلے دبانے کے اقدامات جاری ہیں قرض حاصل کرنے کے ماضی کے سارے رکارڈ توڑ دئیے گئے۔

تفصیلات کے مطابق حکومت نے قرضوں کے سارے ریکارڈ توڑ دیے ،ساڑھے چار سال میں قرضوں کے بوجھے میں رکارڈ 12ہزار 500ارب کا اضافہ ہوا۔اسٹیٹ بینک کے دستاویزا میں انکشاف ہوا ہے کہ گزشتہ ساڑھے چار سال میں 12ہزار 500ارب ریکارڈ اضافے کے ساتھ قرضوں کا مجموعی حجم ریکارڈ 26ہزار 814ارب روپے تک جاپہنچا ہے۔

اسٹیٹ بینک کےمطابق ملکی قرضے 15ہزار 437ارب روپے جبکہ غیر ملکی قرضوں کا بوجھ ریکارڈ 9ہزار816ارب روپے ہوگیا،سرکاری ادارے کل 888ارب روپے کے مقروض ہیں۔

یہ خبر بھی پڑھیں :  حکومت نے عوام کو ایک اور دکھ دینے کا پروگرام بنالیا

کل ملکی قرضے جی ڈی پی کے 75فیصد تک پہنچ چکے ہیں ، قانون کے مطابق قرضے جی ڈی پی کے 60فیصد سے زیادہ نہیں ہونے چائیں موجودہ دور میں ملکی قرضوں میں 6ہزار ارب روپے کا اضافہ ہوا،اسی عرصے میں غیر ملکی قرضوں کا بوجھ 5ہزار ارب روپے بڑھ گیا ہے۔

مسلم لیگ ن کی موجودہ حکومت اقتدار میں آئی توقرضوں کا مجموعی بوجھ 14ہزار 318ارب روپے تھا،پاکستان پر 66سال میں قرضوں کا مجموعی بوجھ 14ہزار 318ارب روپے تھا۔

دستاویزات کے مطابق مشرف کے 9سالہ دور میں قرضوں میں 3ہزار 200ارب روپے کا اضافہ ہوا ہے جبکہ پیپلز پارٹی کے 5سالہ دور میں قرضوں کابوجھ 8ہزار 200ارب روپے بڑھا تھا۔