شام کے جنگ زدہ لوگوں کیلئے عالمی ادارے زندگی کی امید بن گئے

شام کے جنگ زدہ لوگوں کیلئے عالمی ادارے زندگی کی امید بن گئے


دمشق(24نیوز)مشرق وسطیٰ کا ملک شام میں انسانی المیہ جنم لے چکا ہے جہاں سرکاری فوج اور روسی بمباری سے لاکھوں افراد زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں جو بچ گئے ہیں وہ اپاہج زندگی گزار رہے ہیں،اس خانہ جنگی میں مرنیوالوں کی زیادہ تعداد معصوم بچوں اور عورتوں کی ہے۔

شام کے علاقے مشرقی غوطہ میں شامی اور تحادی فوج کے حملے جاری ہیں ،جن میں مرنے والوں کی تعداد 1 ہزار سے بڑھ گئی ،عالمی انسانی حقوق کے ادارے بچے کھچے افراد کیلئے زندگی کی امید بن رہے ہیں،عالمی ادارے ریڈ کراس کے مطابق تیرہ ٹرک امدادی سامان لے کر مشرقی غوطہ پہنچ گئے، بمباری کے باوجودمتاثرین میں امدادی اشیا تقسیم کرنے کا عمل جاری رہا۔

یہ بھی پڑھیے۔۔۔۔۔پاکستان نے ’میڈ اِن امریکہ جہاد لڑا‘ داعش کون لایا؟ دنیا جانتی ہے: خواجہ آصف

مشرقی غوطہ پر گزشتہ روز بھی شامی اور اتحادی فوج کے جیٹ طیاروں نے حملے جاری رکھے،صورت حال پر نظر رکھنے والے شامی ادارےکا کہنا ہے کہ ان حملوں میں اب تک ایک ہزار سے زائد افراد مارے جاچکے ہیں،،، اقوام متحدہ کے ادارے برائے پناہ گزین نے کہا ہے کہ یہ کہنا ابھی قبل از وقت ہوگا کہ شامی پناہ گزین اپنے علاقوں کو لوٹ سکتے ہیں کیونکہ وہاں صورت حال اب بھی غیر محفوظ ہے

بیروت میں نیوز کانفرنس کرتے ہوئے ادارے کے ہائی کمشنر نے کہا کہ لبنان میں پناہ گزین شامی باشندوں میں سے نوے فیصد اپنے وطن لوٹنا چاہتے ہیں تاہم ان میں سے کوئی بھی اس وقت واپس جانے کا خواہش مند نہیں

یہ بھی پڑھیے۔۔۔۔۔شامی فضائی حملے، بمباری ، سینکڑوں جاں بحق، عالمی ادارے میدان میں آگئے

عالمی ادارے ریڈ کراس کے13 امدادی ٹرک مشرقی غوطہ کے متاثرہ علاقے پہنچے۔ ان ٹرکوں میں کھانے پینے کی اشیا شامل تھیں،،،بمباری کےباوجود امدادی کارکنوں نےکئی روزکےبھوکوں میں خوراک تقسیم کی ، شام کے باغی گروپ جیش الاسلام کی رضامندی کے بعد مشرقی غوطہ کی جیلوں میں قید نصرہ فرنٹ کے جنگجوﺅں کا پہلا گروپ علاقے سے نکل گیا تنظیم کے مطابق قیدیوں کی منتقلی کا فیصلہ اقوام متحدہ اور دیگر عالمی اداروں سے مشاورت کے بعد کیا گیا ہے۔

برطانوی خبر رساں ادارے بی بی سی کے مطابق اب تک تقریباً پندرہ لاکھ افراد اس جنگ کا ایندھن بن چکے ہیں ،متعدد شہروں کا ڈھانچہ تباہ ہوچکا ہے۔