نیب کا پنجاب حکومت کے گرد مزید گھیرا تنگ


لاہور(24نیوز)ملک بھر میں کرپشن کیخلاف نیب کی کارروائیاں آج کل موضوع بحث ہیں،قومی احتساب بیورو نے کرپٹ عناصر کیخلاف اپنا دائرہ مزید تنگ کردیا ہے،ملک کے سربراہ سے لے کر چھوٹے سے چھوٹے ملازم کی کرپشن کی تحقیقات کیلئے نیب افسران فعال ہوچکے ہیں۔

سابق وزیر اعظم نواز شریف ان کے بچے اور داماد بھی نیب تحقیقات کی زد میں ہیں،احتساب عدالت میں پیشی پر پیشی بھگت رہے ہیں،اسی طرح سابق وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر اسحاق ڈار بھی مختلف ریفرنسز کی زد میں ہیں وہ چونکہ بیرون ملک علاج کیلئے موجود ہیں لیکن عدالت میں مقدمات جوں کے توں ہیں۔

یہ بھی پڑھیے۔۔۔۔۔آپ مجھے ٹینشن میں نظر آرہے ہیں، اعتزاز احسن کا چیف جسٹس آف پاکستان سے مکالمہ

سپریم کورٹ کے پاناما کیس سے متعلق 28 جولائی 2017 کے فیصلے کی روشنی میں نیب نے شریف خاندان کے خلاف 3 ریفرنسز احتساب عدالت میں دائر کیے، جو ایون فیلڈ پراپرٹیز، العزیزیہ اسٹیل ملز اور فلیگ شپ انویسمنٹ سے متعلق ہیں، نیب کی جانب سے ایون فیلڈ پراپرٹیز (لندن فلیٹس) ریفرنس میں سابق وزیراعظم نواز شریف ان کے بچوں حسن اور حسین نواز ، بیٹی مریم نواز اور داماد کیپٹن ریٹائرڈ محمد صفدر کو ملزم ٹھہرایا،العزیزیہ اسٹیل ملز جدہ اور 15 آف شور کمپنیوں سے متعلق فلیگ شپ انویسٹمنٹ ریفرنس میں نواز شریف اور ان کے دونوں بیٹوں حسن اور حسین نواز کو ملزم نامزد کیا گیا ہے، نواز شریف کے صاحبزادے حسن اور حسین نواز اب تک احتساب عدالت کے روبرو پیش نہیں ہوئے جس پر عدالت انہیں مفرور قرار دے کر ان کا کیس الگ کرچکی ہے۔

نیب کی جانب سے احتساب عدالت میں تین ضمنی ریفرنسز بھی دائر کیے گئے ہیں جن میں ایون فیلڈ پراپرٹیز ضمنی ریفرنس میں نواز شریف کو براہ راست ملزم قرار دیا گیا ہے،جب کہ العزیزیہ اسٹیل ملز اور فلیگ شپ انویسٹمنٹ ضمنی ریفرنس میں نواز شریف ، مریم نواز اور کیپٹن (ر) صفدر نامزد ہیں،مزید تحقیقات کیلئے سپریم کورٹ نے نیب کو مزید دو ماہ کی توسیع دے دی ہے۔

یہ بھی پڑھیے۔۔۔۔۔سورج آپ کی فنگر ٹپس پر آگیا

اسی طرح پنجاب حکومت اور بیوروکریسی بھی اس گھیرے میں پھنسی ہوئی ، پنجاب حکومت کی طرف سے ترقیاتی منصوبوں میں کرپشن کی تحقیقات جاری ہیں،ان میں مشہور مقدمات ملتان میٹرو،لاہور آشیانہ اقبال ہاوسنگ اسکیم اسکینڈل،صاف پانی پراجیکٹ اور دیگر شامل ہیں۔

لاہور آشیانہ اقبال ہاوسنگ اسکیم میں مبینہ کرپشن کی تحقیقات کیلئے نیب نے سابق ڈائریکٹر ایل ڈی اے احد خان چیمہ کو گرفتار کررکھا ہے ان کو گذشتہ ماہ 21 فروری 32 کنال اراضی غیر قانونی طور پر الاٹ کرنے کے الزام میں گرفتار کیا تھا، جو ان دنوں جسمانی ریمانڈ پر نیب کی تحویل میں ہیں،بعدازاں احد چیمہ کی نشاندہی پر ایک اور ملزم شاہد شفیق کو بھی گرفتات کیا گیا، وہ بھی ریمانڈ پر نیب کی تحویل میں ہیں،ملزم شاہد شفیق بسم اللہ کمپنی کا سی ای او ہے جس پر کمپنی کے لیے ٹھیکہ لینے کا الزام ہے،اس سے قبل نیب کی جانب سے آشیانہ ہاو¿سنگ اسکیم میں مبینہ کرپشن پر وزیراعلیٰ شہباز شریف کو بھی طلب کرکے پوچھ گچھ کی جاچکی ہے۔

جو حکومت نے کام نہیں کئے انکا بھی اشتہار دے دیں:چیف جسٹس

قومی احتساب بیورو ( نیب ) لاہور نے پنجاب لینڈ ڈیولپمنٹ کمپنی کے 4 افسران کو گرفتار کر لیا، جنہیں آج عدالت میں پیش کیا گیا،عدالت نے چاروں کا نو روز کیلئے ریمانڈ دے دیا ہے۔

نیب حکام نے چاروں افسران سے ساڑھے 9 گھنٹے سے زائد وقت تک تفتیش کی، بلال قدوائی آشیانہ اقبال اسکیم کے وقت اسٹرٹیجک پلاننگ یونٹ میں اکنامک اسپیشلسٹ کے طور پر کام کر رہے تھے، نیب لاہور کی جانب سے گرفتار کیے جانے والوں میں لاہور ڈیولپمنٹ اتھارٹی (ایل ڈی اے) کے چیف انجینئر اسرار سعید، بلال قدوائی ، امتیاز حیدر اور کرنل (ر)عارف شامل ہیں۔