چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کا انتخاب: ن لیگ کی سر جوڑ کر سر توڑ کوششیں


اسلام آباد (24 نیوز) چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین سینٹ کے انتخاب کے لیے ن لیگ کی قیادت سر جوڑ کر بیٹھ گئی۔ اتحادی جماعتوں اور پارٹی رہنماؤں نے اختیار نوازشریف کو دے دیا۔ جو کل تک امیدواروں کے ناموں کا اعلان کریں گے۔

اس حوالے سے میاں نوازشریف کی زیر صدارت پارٹی کے سینئر رہنماؤں اور اتحادیوں کا اسلام آباد میں اجلاس ہوا جس میں وزیراعظم شاہد خاقان عباسی، محمود خان اچکزئی اور میر حاصل بزنجو سمیت دیگر رہنما شریک ہوئے۔ متحدہ قومی موومنٹ کے خالد مقبول صدیقی اور فاروق ستار نوازشریف کے ساتھ علیحدہ ملاقاتوں میں اپنے تحفظات کا اظہار کرتے رہے۔

یہ بھی پڑھئے:  چیئرمین سینیٹ کیلئے عبدالقدوس بزنجو نے امیدواروں کا اعلان کر دیا

سینیٹر مشاہد اللہ کا دعویٰ ہے کہ انہیں مطلوبہ ارکان سے زیادہ اکثریت مل گئی ہے۔

میرحاصل بزنجو کا کہنا ہے کہ نوازشریف نے مکمل اختیار دے دیا ہے جسے چاہیں نامزد کر دیں۔

نوازشریف سے ملاقات کے بعد خالد مقبول صدیقی نے فروغ نسیم کو سینیٹ چیئرمین لانے کا عندیہ دے دیا۔

فاروق ستار نے جہاں تحفظات کا اظہار کیا وہیں احتجاج کا بھی اعلان کر دیا۔

سابق وزیراعظم نوازشریف اتوار کو فاٹا سینیٹرز سے ملاقات کے بعد چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین کے لیے حتمی ناموں کا اعلان کریں گے۔

علاوہ ازیں فاروق ستار نے کہا ہے کہ ایم کیو ایم کے 4 رکنی وفد نے نواز شریف سے ملاقات کی۔ ممکن ہے پیپلزپارٹی اپنے پہلے فیصلہ پر نظر ثانی کرے۔ رضاربانی کو چیئرمین سینیٹ کے لیے نامزد کیا جائے۔ اگر رضاربانی کو نامزد کیا گیا تو ن لیگ بھی حمایت کرے گی۔ رابطہ کمیٹی کی مشاورت سے فیصلہ کریں گے۔

دوسری جانب رہنما ایم کیو ایم خالد مقبول صدیقی کا نوازشریف سے ملاقات کے بعد میڈیا سےگفتگو میں کہنا تھا کہ چیئرمین اور ڈپٹی چیئر مین سینیٹ کے انتخاب پر مشاورت کے بعد فیصلہ کریں گے۔ ہم مسلم لیگ ن کے اتحادی نہیں ہیں۔ اس لیے ہمارا لیے فیصلہ کرنا آسان ہے۔ پارٹی میں اتنی تقسیم نہیں جتنی نظر آرہی ہے۔

متلقہ ویڈیو: