بھارت میں "جھوٹ" کا دھندہ

مناظرعلی

بھارت میں


خبریں دلچسپ بنانے کیلئے تومختلف طریقےتقریباپوری دنیاکے میڈیامیں ہی استعمال کیے جاتے ہیں مگرجھوٹ کی آمیزش صحافت کے کسی اصول سے بھی جائزقرارنہیں دی جاسکتی اوراگرخبروں میں زہربھردیاجائے کہ جس سے نفرت،لڑائی جھگڑے،فساد اورجنگی ماحول پیداہوجائے توایسی صورتحال انتہائی خطرناک ہوگی،یہ خطرناک صورتحال کااگرآنکھوں سے ملاحظہ کرناہوتوآجکل انڈین چینلزدیکھ لیں،آپ سرپکڑکربیٹھ جائیں گے کہ یہ لوگ بھی اپنی طرف سے خود کو صحافی کہتے ہیں۔

ویسے توجہاں پاکستان کی بات آجائے انڈین اخبارات اورخاص طورپرٹی وی چینلزاپنی توپوں کارُخ پاکستان کی طرف کرلیتے ہیں،ایسے لگتاہے جیسے انڈین دنیا کے مظلوم ترین لوگ ہیں اورپاکستان نے انہیں ہروقت ماراپیٹاہی ہے اورکچھ نہیں کیا،حالانکہ کشمیرمیں بھارتی ظلم وبربریت کی داستانیں پوری دنیا کے سامنے ہیں۔مگرپلوامہ حملے کے بعدسے لے کرآج تک بھارتی اینکرزکی دم پرایساپیرآگیاہے کہ ان کی اچھل کودہے کہ ختم ہونے کانام ہی نہیں لے رہی،اپنے ملک کے معاشرتی مسائل،اپنی غربت،اپنے جرائم اورتنگ نظری وانتہاپسندی کے بڑے مسائل اجاگرکرنے کی بجائے سارا زورپاکستان کوسبق سکھانے کے خواب دکھانے پرہے حالانکہ سبق سکھانے کاشوق انہیں الٹا ہی پڑاہے جوپوری دنیانے کھلی آنکھوں سے دیکھ بھی لیاہے۔جنگی جنون میں اندھے بھارتی میڈیا نے جب کوئی ڈھنگ کی خبرچلانے کونہیں ملی تو ایسی ایسی جھوٹی خبریں گڑھناشروع کی ہیں کہ عقلمند آدمی کی توہنسی ہی نکل جائے۔

چندروزقبل اپناایک جھوٹا دعوٰی سچ ثابت کرنے کی کوشش میں ہندوستانی نیوز چینلزنے پاک فضائیہ کے حاضر سروس پائلٹ کی ہلاکت کی جھوٹی خبر نشر کی۔خبرمیں بتایاگیاکہ ایف 16 تباہ ہونے کے نتیجے میں پائلٹ شہزاد الدین جاں بحق ہوا جبکہ اس خبر کے ساتھ پاک فضائیہ کے حاضر سروس گروپ کیپٹن آغا مہر کی پاک فضائیہ کے طیارے کے ساتھ لی گئی تصویریں چلائی جاتی رہیں تاہم گروپ کیپٹن آغا مہر نے پاکستان کے ایک سینئر صحافی سے رابطہ کر کے بھارتی میڈیا کے جھوٹ کا پول کھول دیا۔بھارتی ٹی وی چینلزکے جھوٹ کی بات صرف میں ہی نہیں کررہا،پوری دنیاجانتی ہے کہ وہ کس طرح صحافت کے نام پراپنے جھوٹ بیچ رہے ہیں۔

ضرور پڑھیں:انکشاف، 24 اگست2019

اسی طرح کالعدم تنظیم جیش محمد کے امیر مولانا مسعود اظہر کے انتقال کی خبر بھی بھارتی چینلز نے خوب اچھالی تھی جو بعدمیں جھوٹ نکلی۔بھارتی میڈیاکے جھوٹوں کیخلاف اب توان کے اپنے لوگ بھی اٹھ کھڑے ہوئے ہیں،آپ یوٹیوب پرلائیوچلنے والے بھارتی ٹی چینلزپر کمنٹس ملاحظہ کریں جہاں بھارتی عوام ہی اپنے میڈیاکوگالیاں نکال رہی ہوتی ہے۔

چنددرختوں کواکھاڑنے کے بعدواپس بھاگنے والے بھارتی طیاروں کوپاکستان کیخلاف فضائی کارروائی قراردینے والے میڈیانے تین سودہشتگرد ہلاک ہونے کابھی دعویٰ کیاتھاجوان کے گلے کی ہڈی بن گیا کہ بھارتی وزیرنے ہی اسے جھوٹا پروپیگنڈاقراردیتے ہوئے بے نقاب کیا،حتی کہ بھارت کی اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے پرزور مطالبہ کیا جارہا تھا کہ اگر پاکستان میں کارروائی کے دوران 300 دہشت گرد مارے گئے ہیں تو اس کے ثبوت کہاں ہیں، کارروائی کی ویڈیو یا تصاویر کیوں جاری نہیں کی جارہیں۔؟بھارتی وزیرملکت برائے آئی ٹی سرندراجیت سنگھ اہلووالیہ نے تسلیم کیا کہ پاکستان میں بھارتی فضائیہ کی کارروائی میں پاکستان کابڑا نقصان نہیں ہوا۔اس سے قبل کانگریس کے اہم رہنما ڈگ وجے سنگھ نے بھی مودی حکومت سے بالاکوٹ حملے کے تصویری شواہد دینے کا مطالبہ کیا۔

بھارتی عوام،ان کے سیاست دان اورچندایک صحافیوں کے علاوہ بھارتی سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس مرکنڈے کاٹجوبھی بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی اور بھارتی میڈیا پرجھوٹی خبروں پرخوب برسے اور ہیجان انگیزی پر اسے بے شرم اور بکاؤ قرار دیا۔

ایک برطانوی اخبار کے مطابق بھارت میں ہونے والے ایک سروے میں انکشاف کیا گیا ہے کہ 64 فیصد بھارتیوں کو جعلی خبروں کا سامنا ہے۔برطانوی اخبار ایوننگ اسٹینڈرڈ کے مطابق دنیا کے دیگر ممالک میں جعلی خبروں کی شرح 57 فیصد ہے۔اس کے علاوہ 54 فیصد بھارتی انٹرنیٹ پر افواہوں سے متاثر ہیں جبکہ دنیا میں یہ شرح 50 فیصد ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارت میں انٹرنیٹ پر پھیلنے والی افواہوں کے نتیجے میں قتل کے واقعات میں تشویش ناک حد تک اضافہ ہوا ہے۔ بھارت میں گزشتہ سال قتل کے 40 فیصد واقعات موبائل فون پر پھیلنے والی افواہوں کے نیتجے میں ہوئے۔ واٹس ایپ پر بچوں کےاغوا کی افواہوں پر خوف و ہراس پھیلایا گیا، افواہوں کے باعث ہجوم کے ہاتھوں کئی افراد کوبھی آگ لگادی گئی۔

ایک جھوٹ کوچھپانے کیلئے سوجھوٹ کاسہارالیناپڑتاہے اوروہ جھوٹ پھربھی ایک نہ ایک دن بے نقاب ہوکرہی رہتاہے،حیرت ہے کہ پھربھی بھارتی میڈیاجھوٹی خبروں کاسہارالے کراپنے دیش کوبڑھاچڑھاکرپیش کرنے کے خواب دیکھ رہاہےحالانکہ پاک بھارت حالیہ کشیدگی کے حوالے سے بھارتی میڈیا کی تمام خبریں بے دم اورجھوٹ کاپلندہ ثابت ہوئی ہیں اورانہیں ہرپروگرام اورہرمحاظ پرشرمندگی کے سواکچھ نہیں مل سکاپھربھی نجانے وہ صحافت کے نام پرجھوٹ کادھندہ کیوں کررہے ہیں؟

بلاگر کاتعلق پنجاب کے ضلع حافظ آبادسے ہے اوروہ گزشتہ ڈیڑھ دہائی سے پرنٹ والیکٹرانک میڈیاسےمنسلک ہیں، آج کل سٹی نیوزنیٹ ورک میں خدمات سرانجام دے رہے ہیں اور24نیوزکیلئے مستقل بلاگ لکھتے ہیں، انہوں نے"کلیدصحافت"کے نام سے صحافت کے مبتدی طلباء کیلئے ایک کتاب بھی لکھی ہے۔