’’چیئرمین نیب چوبیس گھنٹوں میں شواہد لائیں یا معافی مانگیں اور استعفیٰ دیں‘‘


اسلام آباد( 24نیوز )سابق وزیراعظم نوازشریف نے چیئرمین نیب کو24 گھنٹےمیں شواہد سامنےلانےکی ڈیڈلائن دے دی، نواز شریف نے چئیرمین نیب سے استعفیٰ اور معافی مانگنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ چیئرمین نیب اگلے 24 گھنٹوں میں جواب دیں یا فوری استعفیٰ دے کر گھر چلے جائیں,سابق وزیر اعظم  پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئےکہتے ہیں کہ نیب کی طرف سے میرے پر ایک غیر معروف کالم کو بنیاد بناکر الزام لگایا گیا ہے،چیئرمین نیب کی پریس ریلیز میری باتوں کی توثیق ہے،نیب کو طوطا مینا کی کہانیوں سے کچھ نہیں ملا تو ذاتی عناد پر اتر آیا ہے،چیئرمین نیب اگر چوبیس گھنٹوں میں معافی نہیں مانگتے تو استعفیٰ دے کر گھر چلے جائیں۔

تفصیلات کے مطابق اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس کے دوران سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ چئیرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال کی طرف سے جاری پریس ریلیز پر نیب کی جانبداری اور معتصب رویہ کی طرف اشارہ کرتا رہا ہوں۔ نیب نے میری کردار کشی اور میڈیا ٹرائل کو اپنا مشن بنالیا ہے۔ چیئرمین نیب کے الزامات گھٹیا اور ناقابل برداشت ہیں۔ کسی تفتیش کے بغیر ایک اخباری کالم کی خبر پر تحقیقات شروع ہونا شرمناک ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کیا نیب کونہیں معلوم کہ ورلڈ بینک نے دو ٹوک وضاحت کر دی تھی۔

یہ بھی پڑھیے: اقتدار آخری سانسوں پر،حکومت نے ہاتھ پاوں مارنا شروع کر دئیے 

   نواز شریف کا مزید کہنا تھا کہ جے آئی ٹی سے ریفرنس تک پھیلی سیاہ کہانی عوام کے سامنے ہے۔ مجھے وزارت عظمی سے علیحدہ کرنا طے پاچکا تھا۔ کوئی بہانہ نہ ملا تو بیٹے سے تنخواہ کو جواز بنا ڈالا۔ بوگس مقدمات میں اب تک 70 پیشیاں بھگت چکا ہوں۔ طوطے مینا کی کہانی سے کچھ برآمد نہیں ہوا۔ سابق وزیراعظم کا کہنا تھاکہ الزام کی نوعیت اتنی سنگین اور شرمناک ہے، اسے نظر اندز کرنا ملک کے سیاسی، جمہوری اور آئینی نظام کو خطرےمیں ڈالنا ہے، الزام ہےکہ نوازشریف نے پانچ ارب ڈالر کی بھاری رقم ملک سےباہر بھیجی، یہ رقم منی لاڈرنگ کےذریعے بھیجی گئی، اس کے ذریعے زر مبادلہ کے ذخائر کو نقصان پہنچایا گیا، بھارت کےزرمبادلہ کے ذخائر کو طاقتور بنایا گیا، کسی بھی محبت وطن پاکستانی پر اس طرح کے بے بنیاد گھٹیا اور محضکہ خیز الزامات ناقابل برداشت ہیں۔

انہوں نے کہا ہے کہ ن لیگ کے ارکان پر پارٹی چھوڑنے اور آزاد الیکشن لڑنے کیلئے دباﺅ ڈلا جارہا ہے،ہمارے لوگوں پر مقدمات بنائے جارہے ہیں،زمینی مخلوق اس بار خلائی مخلوق کو شکست دے گی،خلائی مخلوق نظر نہیں آتی زمینی نظر آتی ہے۔

پڑھنا نہ بھولیں:نواز شریف کے ایک اور با اعتماد ساتھی کا ستارہ گردش میں آگیا

انہوں نے کہا ہے کہ کوئی ثبوت ہوتا تو آٹھ دن میں فیصلہ ہوجاتا،آٹھ ماہ سے یہ کیس چل رہا ہے،مجھے لگتا ہے یہ قیامت تک چلانا چاہتے ہیں،اس کیس میں کچھ نہیں یہ صرف کچھ گھڑنا چاہتے ہیں،میں ستر پیشیاں بھگت چکا ہوں،سزا ہوئی تو اپیل کروں گا نہ معافی مانگوں گا،جن لوگوں نے پارٹی چھوڑی ہے انہوں نے چھوڑی نہیں چھڑوائی گئی ہے،پیپلز پارٹی اور پی ٹی آئی کے گٹھ جوڑ کا ثبوت طاہرالقادری کا لاہور کا جلسہ ہے، عمران خان نے سینیٹ میں تیر کے نشان پر ووٹ دیا،لگتا ہے عام انتخابات میں بھی کہیں تیر پر مہر نہ لگادیں۔

اللہ نہ کرے ہماری قسمت عمران خان کی طرح ہو

سابق وزیر اعظم نواز شریف ایک بار پھر احتساب عدالت میں پیش ہوگئے ہیں،پیشی کے وقت ان کی صاحبزادی مریم نواز اور داماد کیپٹن (ر)محمد صفدر اور دیگر مسلم لیگی رہنما ءبھی ساتھ تھے۔

میاں نواز شریف نے صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو میں کہا کہ آمر کے بنائے ہوئے قوانین جتنی جلدی ختم کردیں ملک کے لیے بہتر ہوگا، ترقیاتی کاموں اور فلاح و بہبود میں مصروف رہے جس کی وجہ سے اس طرف دھیان نہیں گیا، سوشل میڈیا پر چل رہا ہے کہ ٹائی ٹینک ڈوبنے کی وجہ سامنے آ گئی اور ٹائی ٹینک ڈوبنے پر نواز شریف کو نوٹس کا امکان ہے۔
انہوں نے کہا ہے کہ قومی احتساب بیورو (نیب) بہت سے معاملات میں اختیارات سے تجاوز کر رہا ہے جب کہ چیئرمین نیب سے متعلق وزیراعظم کی پارلیمنٹ میں گفتگو خوش آئند ہے، نیب بہت سے معاملات میں اختیارات سے تجاوز کر رہا ہے اگر نیب کی طرف سے کوئی چیز سامنے آنی ہوتی تو پہلے 10 روز میں آجاتی، جب تک نیب کو ثبوت نہ مل جائے یہ ٹرائل آگے بڑھتا رہے گا۔

پڑھنا نہ بھولیں:چیف جسٹس پاکستان کا سانحہ اے پی ایس پر جوڈیشل کمیشن بنانے کا حکم
نواز شریف نے کہا کہ پنجاب ہاوس میں آج ہنگامی پریس کانفرنس کی جائے گی جس میں منی لانڈرنگ کے حالیہ الزامات پر بات ہوگی،گوجرانوالہ سے رانا نذیر کی تحریک انصاف میں شمولیت پر نواز شریف نے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں نے بھی سنا ہے کہ وہ تحریک انصاف میں جا رہے ہیں، ان کے بیٹے نے پارٹی صدارت کے لیے مجھے ووٹ نہیں دیا تھا۔
نواز شریف نے کہا کہ عمران خان کی کسی بات پر اعتبار نہیں کیا جا سکتا، وہ سیاستدان ہی کیا جس کی بات پر اعتبار نہ کیا جائے، عمران خان کی بریت سے متعلق سوال پر نواز شریف نے کہا کہ اللہ نہ کرے ہماری قسمت عمران خان کی طرح ہو۔آمر کا بنایا ہوا قانون ختم ہونا چاہیے تھا، پرویز مشرف نے اپنے عزائم کی تکمیل کے لیے نیب کا قانون بنایا تاہم اب فیصلے کا وقت ہے کہ ملک میں جمہوری حکومتوں کے قانون چلیں گے یا آمروں کے۔