شہید ذولفقار علی بھُٹو کا ایسا کارنامہ جو ہمیشہ پاکستانی تاریخ کے ماتھے کا جھومر رہے گا

شہید ذولفقار علی بھُٹو کا ایسا کارنامہ جو ہمیشہ پاکستانی تاریخ کے ماتھے کا جھومر رہے گا


اسلام آباد(24نیوز) 73 کے آئین کو بنے 45برس گذرگئےملک کو متفقہ آئین دینے کا یہ سہرا ذولفقار علی بُھٹو کے سرہے،تمام تر نامسائد حالات کے باوجود یہ آئین آج بھی پاکستان میں بسنے والوں کے اتحاد کی دستاویز اور بہتر مُستقبل کی اُمید ہے۔

تفصیلات کے مطابق 73 کے آئین کو بنے 45 برس ہوگئے۔قیام پاکستان کے بعدکی ابتدائی 2 دہائیاں آئینوں کی بننے اورٹوٹنے کی دہائیاں رہی ہیں۔ 71میں مُلک ٹوٹ چُکا تھا۔ایک طرف ٹوٹے ہوئَے مُلک کے لوگوں کے ٹوٹے دلوں کو جوڑنے کی ضرورت تھی تو دوسری طرف مُلک کو ایک ایسے آئین کی ضرورت تھی جو باقی مُلک کو مُتحد رکھ سکے اور جس پر سب کا اتفاق ہو۔

یہ بھی ضرور پڑھیں:پاکستانی فوج کے سربراہ قمر جاوید باجوہ دنیا کی با اثر ترین شخصیات میں شامل 

 یہ دونوں کام ذولفقار علی بھُٹونے انجام دیئَے۔جو ایسا کارنامہ ہے جو ہمیشہ پاکستانی تاریخ کے ماتھے کا جھومر رہے گا۔ 73 کے آئِین پر مُلک کے ہرطبقے اور قومیت نمائندوں کے دستخط ہیں۔اسے پاکستان کی قومی اسمبلی نے متفقہ طور پر منظور کیا ۔

اگرچہ وقت کے ساتھ ساتھ اس میں بہت سی ترامیم ہوئیں  مگر اس آئین کا اصل کارنامہ وفاق پاکستان میں ہرشہری کو بُنیادی حقوق کی ضمانت ہے۔ تمام تر نامسائد حالات کے باوجود تہتر کا آئین پاکستان میں بسنے والی قومیتوں کو ایک بہتر مُستقبل کی اُمید سے باندھے ہوئے ہیں ۔جو پاکستان کا مُستقبل بھی ہے اور مُقدر بھی۔