احتساب کرنا اگر جرم ہے تو یہ جرم ہوتا رہے گا: چیئرمین نیب

احتساب کرنا اگر جرم ہے تو یہ جرم ہوتا رہے گا: چیئرمین نیب


پشاور(24نیوز) چیئرمین  نیب  جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال کا کہنا ہے کہ احتساب کرنا جرم ہے تو یہ جرم ہوتا رہے گا۔قومی ادارے کی طرف سے نوٹس بھجوایا جاتا ہے، نیب کے نوٹس میرے ذاتی دعوت نامے نہیں ہوتے۔

انھوں نے پشاور میں ایک تقریب کے دوران نوازشریف کو بھیجے گئے نوٹس پر ان کے رد عمل کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ اگر کرپشن کے حوالے سے پوچھ گچھ کرنا یا پوچھنا کسی کے نزدیک جرم ہے تو یہ جرم ہوتا رہے گا۔ قومی ادارے کی طرف سے نوٹس بھجوایا جاتا ہے، نیب کے نوٹس میرے ذاتی دعوت نامے نہیں ہوتے، احتساب کرنا قوم کے مفاد میں ہے۔

یہ بھی پڑھیں:چیئرمین نیب چوبیس گھنٹوں میں شواہد لائیں یا معافی مانگیں اور استعفیٰ دیں ، نواز شریف 

ان کا  کہنا تھا کہ عزت سے پوچھا جاتا ہے، آپ امین تھے، قومی خزانہ کہاں استعمال کیا، نیب کی کسی سے دشمنی نہیں، آپ کی عزت کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے نوٹس بھجوایا، کوئی بھی نیب آفس آتا ہے توپہلے چائے پلائی جاتی ہے۔ یہ پوچھنا کون سا گناہ ہے کہ کرپشن کیسے ہوئی کہاں ہوئی، کوئی یہ سمجھتا ہے کہ یہ پوچھنا جرم ہے تو یہ جرم ہوتا رہےگا۔

پڑھنا نہ بھولیں:تحریک انصاف نے مسلم لیگ ن کی مزید چار وکٹیں اڑا دیں

 چیئرمین نیب نے کہا کہ یہ صورتحال ہمارے ملک کے مفاد میں ہے۔ کرپشن کو مزید برداشت نہیں کیا جا سکتا۔ ان سے پوچھا بھی جا سکتا ہے اور قانون کے مطابق اُن پر گرفت بھی ہو سکتی ہے اور جو قوم کی لوٹی ہوئی دولت ہے اسے واپس لا کر جن لوگوں کا حق ہے ان تک پہنچائی جائے گی۔

شازیہ بشیر

   Shazia Bashir   Edito