قومی اسمبلی اجلاس،پرویز خٹک اورخواجہ آصف میں تلخ کلامی



اسلام آباد( 24نیوز ) قومی اسمبلی کے اجلاس میں خواجہ آصف نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ4 دہائیوں سےہمارا قبائلی خطہ بدامنی کاشکاررہا، وزیر دفاع پرویز خٹک نے کہاکہ70 سال بعد فاٹا کو صوبے میں ضم کیا گیا ہے، دوران اجلاس پرویز خٹک اورخواجہ آصف میں تلخ کلامی بھی ہوئی۔

تفصیلات کے مطابق قومی اسمبلی کے اجلاس میں سیاسی شخصیات نے اپنے اپنے خیالات کا اظہار کیا،  مسلم لیگ ن کے رہنما خواجہ آصف کا کہناتھاکہ ہم نے دوسروں کی جنگ لڑی،دوفوجی ڈکٹیٹروں نے اقتدارکودوام دینے کےلیےجنگیں لڑیں،دوجنگیں پاکستان کی عوام نےنہیں ڈکٹیٹروں نے لڑیں،ہم نے اپنی آزادی بیچ کرغلامی قبول کرلی،ہم نے دوسروں کی پراکسی وارلڑی،ہمارے دور میں ہم پروکسی وار کا حصہ نہیں بنے ،ان کاکہناتھاکہ4 دہائیوں سےہمارا قبائلی خطہ بدامنی کاشکاررہا،قبائلی عوام نےدہشتگردی کی جنگ میں فرنٹ لائن کاکرداراداکیا،80 کی دہائی اور نائن الیون کے بعد دو آمروں نے اپنے اقتدار کو طول دینے کے لئے جنگیں لڑیں، پاکستان کی آزادی کو فروخت کر دیا۔

اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے ان کاکہناتھاکہ ہماری روس کے ساتھ کوئی جنگ نہیں تھی اقتدار کو طول دینے کا شوق تھا، امریکا افغانستان میں شکست کھا چکا ہے،افغان جنگ جہادنہیں تھا،ہم نے ملک میں خانہ جنگی کا سامان خودپیداکیا،ہمارےخوبصورت شہردہشتگردی کا شکارہوگئے،اس خطے میں رہنے والوں کاکیا قصورتھا؟ریاست ماں ہوتی ہے،ماں زخموں پر مرہم رکھتی ہے،آج فاٹا سے متعلق بل پاس کرنے جا رہے ہیں،فاٹامیں جب تک امن واپس نہیں آجاتاعلاقےکوخاص توجہ دینےکی ضرورت ہے،پرائیویٹ ممبرڈے پرآئینی بل میں ترمیم خوش آئندہے۔

وزیردفاع پرویز خٹک

قومی اسمبلی کے اجلاس میں وزیردفاع پرویزخٹک کاکہناتھاکہ جن علاقوں کو علاقہ غیر کہا جاتا تھا اب وہ اپنا علاقہ بن گیا ہے، کاش 70سال پہلے ہم ایسا فیصلہ کر لیتے فاٹا میں ایف سی آر کے قانون کے تحت انسان کو انسان نہیں سمجھا جاتا تھا، فاٹا کے انضمام کے بعد عوام پاکستان کی ترقی میں کردار ادا کریں گے، فاٹا کے لوگوں نے پاکستان کی خاطر ہماری سرحدوں کی حفاظت کی ہمیں ملک کی خاطر اکٹھے ہو کر چلنا ہے، فاٹا انضمام کا کیس تین بار مشترکہ مفادات کونسل میں آیا.

ان کا کہناتھاکہ یوسف رضاگیلانی کے دور میں یہ کیس ٹال دیا گیا، شاہد خاقان عباسی کے دور میں یہ فیصلہ ہوا اور اس کے بعد بل اسمبلی نے پاس کیا ہم کوشش کررہے ہیں کہ فاٹا میں بنیادی سہولیات اور روزگار کا بندوبست کیا جائے،ان کاکہناتھاکہ سالانہ 100ارب سابقہ فاٹا کے علاقوں میں خرچ کیا جائے گا دس سال تک ایک ہزار ارب روپے خرچ ہونگے ہم فاٹا کے لوگوں کو یقین دلاتے ہیں کہ پورا پاکستان ان کے ساتھ کھڑا ہے۔

وزیردفاع کی بات پر خواجہ آصف برہم ہوگئے جس پر وزیردفاع کاکہناتھاکہ خواجہ صاحب غصہ نہ ہوں ہمیں بھی غصہ آتا ہے،کہیں ایسا نہ ہو کہ کل ہم اپنےسپیکر کے تحفظ کے لیے کھڑے ہو جائیں،آپ چیخیں گے تو ہم بھی چپ نہیں بیٹھیں گے، بعد ازاں  پرویز خٹک کے جملوں پر قومی اسمبلی میں اپوزیشن نےاحتجاج شروع کردیا۔

راجہ پرویز اشرف

قومی اسمبلی اجلاس میں وزیر دفاع پرویز خٹک کی جانب سے اسپیکر کو "ہمارا" کہنے پر احتجاج ہوا، پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنماراجہ پرویز اشرف نے کہاکہ وزیر دفاع نے آپ کو اپنا اسپیکر کہا ہے، آپ پورے ایوان کے اسپیکر ہیں،جس پراسپیکر قومی اسمبلی کاکہناتھاکہ میں پہلے کہہ چکا ہوں کہ میں پورے ایوان کا اسپیکر ہوں ، راجا پرویز اشرف  نے مطالبہ کیا کہ جناب اسپیکر! کل بلاول بھٹو زرداری نے حکومت کے لئے ظالم اور منافقت کے الفاظ استعمال کیے تو وہ حذف کر دیئے گئے، وزیر دفاع کے بھی " ہمارا اسپیکر " کے الفاظ حذف کرادیں۔