آئی ایم ایف ،امریکہ کا جنگی ہتھیار،پاکستان کیلئے نئی مصیبت لائے گا

آئی ایم ایف ،امریکہ کا جنگی ہتھیار،پاکستان کیلئے نئی مصیبت لائے گا


لاہور(24نیوز)وکی لیکس کی رپورٹ کے مطابق امریکہ آئی ایم ایف ،ورلڈ بینک کو جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کرتا ہے، وینزویلا کے برے حالات،جہاں امریکہ اپنی مرضی کی حکومت لانا چاہتا ہے،پاکستان پر آئی ایم ایف کا بڑھتا ہوا کنٹرول وہ وجوہات ہیں جس سے دوبارہ رپورٹ میں دلچسپی پیدا ہوگئی ہے۔اس رپورٹ کو یو ایس ملٹری کومینول کہتے ہیں۔

ضرور پڑھیں:ڈالر سستا ہوگیا

پاکستان کو کن خطرات سے ہوشیار رہنا چاہئے؟’’ نجم سیٹھی شو ‘‘ کے میزبان معروف صحافی نجم سیٹھی کہتے ہیں کہ پاکستان میں آئی ایم ایف سے خطرات کے حوالے سے بات کی جارہی ہے،اپوزیشن بھی اس پر تنقید کررہی ہے،جس رپورٹ کا ذکر کیا جارہا ہے یہ 2008میں شائع کی گئی،اس پر پہلے توجہ نہیں دی گئی،آج جب آئی ایم ایف حاوی ہورہا ہے تو وکی لیکس نے اسے دوبارہ شائع کیا ہے،اس رپورٹ کو ریجیم کنونشنل چینج مینول کا نام بھی دیا جاتا ہے۔

انہوں نے کہا ہے کہ آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک اپنے آپ کو آزاد ادارہ ظاہر کرنے کی کوشش کرتے ہیں لیکن ایسا نہیں ہے،آئی ایم ایف میں ساڑھے 17فیصد شیئر امریکہ کا ہے، امریکہ کا اس پر اثر ورسوخ بھی زیادہ ہے، امریکہ آئی ایم ایف کو سالانہ 170 ارب ڈالر دیتا ہے جو مختلف ممالک کو قرض کے طور پر دیے جاتے ہیں۔ورلڈ بینک کی حالت بھی یہی ہے ،اس کا صدر بھی امریکہ کا شہری ہی بنتا ہے اور اسے ڈائریکٹ امریکی صدر ہی تعینات کرتے ہیں۔جو تعیناتی کیلئے بورڈ بنایا گیا ہے وہ برائے نام ہی ہے۔

امریکہ آئی ایم ایف کے ذریعے پہلے ممالک کی معیشت کو تباہ کرتا ہے پھر بیل آئوٹ پیکج دیتا ہے پھر اپنی شرائط منوانے کیلئے حکومتوں پر دبائو بڑھاتا ہے،ایکواڈور، وینزویلا کی زندہ مثالیں موجود ہیں،ایکواڈور میں پہلے معیشت تباہ کی گئی پھر  آئی ایم  ایف کے ذریعے پیکج دیا گیا اور آخر کار مطلوب ملزم جولین اسانج کو وہاں سے ملک بدر کرایا گیا،اب وینزویلا میں بائیں بازو کی حکومت ختم کرنے کیلئے  کھیل کھیلا جارہا ہے جس منصوبے پر امریکہ ایک عرصے سے کام کررہا تھا۔

انہوں نے کہا ہے کہ آئی ایم ایف کافی عرصے سے کہتا رہا ہے کہ پاکستان سٹیٹ بینک کو آزاد ادارہ ہونا چاہئے،اسے وزارت خزانہ کے اثر ورسوخ سے پاک ہونا چاہئے،اب وہ اپنا ہی بندہ لانے میں کامیاب ہوگیا ہے،اب وہ پاکستان کی معیشت کے ساتھ کیا کرتے ہیں ہم سے کیا چیز مانگتے ہیں اس کا وقت کے ساتھ فیصلہ ہوجائے گا ،فی الحال تو آئی ایم ایف تما م سبسڈیز ختم کرنے کا کہے گا،روپے کی قدر کم اور ڈالر کی قدر بڑھے گی۔آئی ایم ایف پاکستان سے کیا مانگ رہا ہے؟ اس کا اسد عمر اور طارق باجوہ بہتر بتا سکتے ہیؒں۔

گزشتہ برسوں میں آئی ایم ایف نے پاکستان کو 21پروگرام دئیے صرف اسحاق ڈار کے ساتھ طے پانیوالا پروگرام مکمل ہوا،ان پروگرام کا نامکمل ہونا آئی ایم ایف کی بات نہ ماننا تھا،عموماً آئی ایم ایف 6ماہ میں پروگرام کی نظر ثانی کرتا ہے لیکن پاکستان کے معاملے میں تین ماہ میں نظر ثانی کی جاتی ہے،حالیہ پروگرام میں آئی ایم ایف کی شرائط کو ماننے میں جو رکاوٹ تھے ان کو ہٹا دیا گیا ہے، اسد عمر نے ان کی کچھ شرائط ماننے سے انکار کردیا تھا ان میں سے ایک اداروں کی نجکاری تھی، سٹیل مل ، ہسپتالوں کی نجکاری آئی ایم ایف کا ہدف ہے اسی طرح عوام کی استعمال کی چیزوں کو بھی مہنگا کیا جائے گا جن میں بجلی ،گیس سرفہرست ہیں،آئی ایم ایف کا مطالبہ ہے کہ سات سو  ارب  تک ٹیکس بڑھائیں جس کی یہاں مارکیٹ میں ہمت ہی نہیں ہے۔نئے مشیر خزانہ اور گورنر سٹیٹ بینک نے آئی ایم ایف کی شرائط کو من وعن ماننے کا عندیہ دیا ہے۔سب باتیں مان لی گئیں تو پروگرام مکمل ہوجائے گا اگر نہیں مانی جاتی تو آئی ایم ایف بھاگ جائے گا۔

امریکہ کیا چاہتا ہے؟ امریکہ پاکستان کے ذریعے افغانستان سے نکلنا چاہتا ہے اور اپنی بات منوانے کیلئے پاکستان کو کہہ رہا ہے کہ طالبان پر دبائو ڈالا جائے،چڑیا کے مطابق طالبان پاکستان کی بات نہیں مان رہے،دوسرا ایران کیخلاف بننے والے اتحاد کیلئے پاکستان کی حمایت مانگی جارہی ہے،اگر پاکستان آئی ایم ایف کے جال میں پھنس گیا تو پاکستان کیلئے بڑی مشکل ہوجائے گی،اگر درست سمت میں کھیلا تو بچنے کے امکانات ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ ماضی میں پرویز مشرف نے بھی امریکہ سے 20ارب ڈالر لے کر ایسی غلطی کی تھی اب یہ حکومت بھی وہی غلطی دوہرانے جارہی ہے ،اس میں نقصان عام عوام کا ہے۔

اظہر تھراج

Senior Content Writer