شیطان توآزادہے۔۔۔

مناظرعلی

شیطان توآزادہے۔۔۔


آج کل خوب کمائیاں ہورہی ہیں،کوئی نیکیاں کمارہاہے توکوئی شیطان بندہونے کے باوجودبرائیاں کمارہاہے،جب رمضان کے علاوہ کہیں برائی ہوتوملبہ شیطان پرڈال کرمسلمان توکم ازکم بری الذمہ ہوجاتاہے کہ بھئی کیا کریں،شیطان کے بہکاوے میں آگئے،آخراس نے بھی خداسے اعلان جنگ کررکھاہے اب وہ ہاتھ پہ ہاتھ رکھ کرتونہیں بیٹھ سکتا،کچھ نہ کچھ توقیامت تک کرتارہے گا۔مگریہ رمضان میں سمجھ نہیں آتی کہ جب شیطان قیدہوجاتاہے توپھرشیطانی کاموں پرکون اکساتاہے؟؟۔۔۔سوچنے کی بات ہے کہ کہیں انسان خودہی شیطانی کام کرکرکے شیطان اینڈکمپنی کوتوجوائن نہیں کرچکاہے؟؟۔۔مثال کے طورپرجیسے آپ کسی کمپنی میں کام کررہے ہوں توآپ کے باس بیرونی دورے پرکچھ دن،کچھ مہینے چلے جائیں تووہ کمپنی بندتونہیں کرسکتے،اسی لیے اس کے ٹرینڈکیے ہوئے لوگ ا س کی عدم موجودگی میں اس کی کمپنی کو چلاتے رہتے ہیں اورپھرجب باس آتاہے توخوب خوش ہوتاہے کہ میرے جانے کے بعدبھی میرے کارکنوں نے کتنااچھا کام کیاہے۔۔

ماہ صیام ہےاورخوب کمائیاں ہورہی ہیں،کوئی نیکیاں کمارہاہے توکوئی برائیاں۔۔اللہ کے بندے روزہ رکھ کرہربرے کام سے بچتے ہیں،پانچ وقت نمازپڑھتے ہیں،صدقہ وخیرات دے رہے ہیں،مستحقین کوافطاریاں کرارہے ہیں،غریبوں کی مالی امداد کررہے ہیں،جسے جواچھا کام لگتاہے وہ دوسروں کی بھلائی کیلئے کیے جارہاہے،انسان دوسرے انسانوں کیلئے آسانیاں پیداکررہاہے اوریوں پھرقدرت انہیں اس کے صلے میں نیکیاں عطاکررہی ہے۔

دوسری جانب ایک بڑا طبقہ جودنیاکامال جمع کرنے میں لگاہے،کمائی کابس یہی مہینہ ہے،پوراسال تومارکیٹ میں گاہک کم آتے ہیں،یہی ایک مہینہ ہے جب گاہکوں کی بھیڑہوتی ہے ،چھریاں تیزکرلوتاکہ کوئی گاہک بغیرمنافع جانے نہ پائے۔سستے داموں کسانوں سے لی گئی اشیاء کوکچھ مہنگائی کارنگ منڈی میں دیاجاتاہے توکچھ دکانداربڑھاکرخوب کمائی کرتے ہیں،گاہکوں کی جیبوں پرڈاکے ڈال کرپھرشام کواللہ کاشکربھی بجالاتے ہیں کہ تونے کتنارزق عطافرمایا۔۔منہ پرسنت رسول،ہاتھ میں تسبیح اورسرپرٹوپی رکھ کرناجائزمنافع خوری کرکے اپنی جیب بھرتے ہیں اورپھروضوکرکے مسجدمیں سربسجودہوجاتے ہیں،اللہ جانے کہ ایسے لوگوں کی اللہ کے نزدیک کیاحیثیت ہے؟ہم نے توآخرت نہیں دیکھی،نجانے ان کامعاملہ کیاہوگامگردنیامیں جتنی گرانفروشی انہوں نے کی،انسان توکوئی خوش نہیں ہوتاان سے،اب انسانوں کاخدا اگراپنے فضل سے انہیں معاف کردے توپھراس کی مرضی۔۔

پھل فروش،سبزی فروش،دودھ فروش ،کریانہ،کپڑا،جوتے،ریڑھی بان اور درزی،،اس بہتی گنگامیں کون نہیں ہاتھ دھورہا۔حکومت سے لے کرعوام تک،ہرکوئی اپنامال مہنگاترین ہی بیچناچاہتاہے اوربیچ رہاہے۔۔کسے قصوروارٹھہرائیں؟کس سے انصاف مانگیں؟کس کادروازہ کھٹکھٹائیں؟۔۔شیطان کی راہ پرچلنے والے شیطان کی عدم موجودگی میں اللہ کے بندوں کوکتناتنگ کررہے ہیں،آنکھوں سے دیکھناہے توکسی بھی بازارچلے جائیں،کچھ چیزیں خریدیں توآپ کواندازہ ہوگاکہ شیطان بندنہیں،شیطان تواب بھی آزادہے۔۔۔۔

بلاگر کاتعلق پنجاب کے ضلع حافظ آبادسے ہے اوروہ گزشتہ ڈیڑھ دہائی سے پرنٹ والیکٹرانک میڈیاسےمنسلک ہیں، آج کل سٹی نیوزنیٹ ورک میں خدمات سرانجام دے رہے ہیں اور24نیوزکیلئے مستقل بلاگ لکھتے ہیں، انہوں نے"کلیدصحافت"کے نام سے صحافت کے مبتدی طلباء کیلئے ایک کتاب بھی لکھی ہے۔