شہباز شریف کے جسمانی ریمانڈ میں توسیع، ایک اور کیس کھل گیا


لاہور(24نیوز) اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کو  احتساب عدالت میں چوتھی مرتبہ  پیش کیا گیا، اس موقع پر سکیورٹی کے سخت انتظاما ت کئے گئے۔

تفصیلات کے مطابق آشیانہ ہاؤسنگ اسکینڈل میں گرفتار سابق وزیراعلیٰ پنجاب اور  اپوزیشن لیڈر میاں شہباز شریف کو  ریمانڈ ختم ہو نے پر احتساب عدالت میں پیش کیا گیا،  احتساب عدالت کے جج نجم الحسن نے شہباز شریف کے خلاف کیس کی سماعت کی، دوران سماعت  نیب نے شہباز شریف کی رمضان شوگر ملز  میں گرفتاری ڈالی، نیب نے عدالت سے استدعاکی کہ رمضان شوگر ملز میں بھی ریمانڈ دیا جائے،عدالت سے شہباز شریف کے جسمانی ریمانڈ میں 15 روز کی استدعا کی، جس پر عدالت نے شہباز شریف کو 14 روزہ جسمانی ریمانڈ پر نیب کے حوالے کردیا اور ان کو دوبارہ 24 نومبر کو عدالت میں پیش ہونے کا حکم دیا، جس کے بعد شہباز شریف نیب حکام کی تحویل میں احتساب عدالت سے روانہ ہو گئے۔

 کیس کی سماعت شروع ہو نے سے قبل شہباز شریف نے حمزہ شہباز اور وکلا سے مشاورت کی، اس دوران حمزہ شہباز نے والد سے ملاقات کی ان کی طبعیت کا بھی پوچھا, ان کا کہنا تھا کہ طبعیت ٹھیک ہے، کیسز میں کچھ نہیں، حمزہ شہباز نے والد کو تسلی دی اور کہا آپ مقدمات سے بری ہو جائیں گے،علاوہ ازیں شہباز شریف کو اسلام آباد سے آنے والی پہلی فلائٹ پی کے 651سے لاہور لایا گیا،  احتساب عدالت میں پیشی کے تمام انتظامات مکمل  کئے گئے، عدالت کی طرف آنے والے راستوں کو کنٹینرز لگا کر بند کردیا گیا،احتساب عدالت کے اندر اور باہر پولیس اور رینجرز کی بھاری نفری کو تعینات کیا گیا۔

اس کے علاوہ سیکرٹریٹ کے باہر راستوں کو اور ایم اے او کالج سے احتساب عدالت جانے والا راستوں بھی بند کیا گیا،لیگی کارکن  اپوزیشن لیڈر  شہباز شریف سے اظہار یکجہتی کے لئے احتساب عدالت پہنچے،ان کی جانب سے میاں محمد شہباز شریف کے حق میں نعرے بھی لگائے گئے،اس موقع پر  لیگی کارکنوں نےاحتساب عدالت کے اند ر جا نے کی کو شش کی جس پر کارکنوں اور پولیس کے درمیان جھگڑا  ہواجس میں کارکن زخمی بھی ہوئے۔

لیگی کارکنوں کا  کہنا تھا کہ شہباز شریف اور نواز شریف کو سیاسی انتقامی کارروائیوں کا نشانہ بنایا جارہا ہے، انہوں نے ہمیشہ عوام کی خدمت کی ہےاور یہ صلہ دیا جارہا ہے۔

 واضح رہے کہ شہباز شریف آشیانہ ہاؤسنگ  کیس کے سلسلے میں 5 اکتوبر سےنیب کی تحویل میں ہیں،  29 اکتوبر کو لاہور کی احتساب عدالت نے قومی اسمبلی اجلاس میں شرکت کے لیے ان کا 3 روزہ راہداری ریمانڈ منظور کیا تھا۔