’’چیٹھی نہ کوئی سندیس،جانے وہ کون سا دیس ،جہاں تم چلے گئے‘‘

’’چیٹھی نہ کوئی سندیس،جانے وہ کون سا دیس ،جہاں تم چلے گئے‘‘


24نیوز:بھارتی غزل گائیک جگجیت سنگھ کے مداح آج ان کی ساتویں برسی منا رہے ہیں،جگجیت سنگھ نے جوبھی گایا وہ دلوں میں    گھرکرگیا،ان کے یادگار گیت آج بھی سنے اورگنگنائے جاتے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق غزل کی دنیا میں ایک انوکھا انداز پیدا کرنے والے جگجیت سنگھ کو اپنے مداحوں سے بچھڑے آج 7 برس بیت گئے،لیکن ان کی گائی ہوئی غزلیں آج بھی سننے والوں کے کانوں میں رس گھولتی ہیں۔

جگجیت سنگھ 8 فروری 1941 کو پیدا ہوئے،اپنی پہچان ایک غزل گائک کی حثیت سے تو بنائی ہی لیکن گانے کمپوز کرنے اور لکھنے کے فن میں بھی مہارت رکھتے تھے،اگر اس غزل گائک کو ٖغزل کی دنیا کا بادشاہ کہا جائے تو غلط نہ ہو گا۔

جگجیت سنگھ نے نہ صرف اپنی البمز ریلیز کیں بلکہ بالی ووڈ انڈسٹری کو بھی اپنے فن سے فائدہ پہنچایا اور ایسے ایسے لاجواب گیت گائے جو آج بھی سنیں تو پرانے نہیں لگتے،بالی ووڈ کی فلموں میں گائی گئی مشہور غزلیں جن میں ہوش والوں کو خبر کیا،تم اتنا جو مسکرا رہے ہو،ہونٹوں سے چھو لو تم،کوئی فریاد ،یہ وہ غزلیں ہیں جہنوں نے بالی ووڈ انڈسٹری میں جگجیت سنگھ کی ایسی پہچان بنائی جو مٹائے نہ مٹے گی۔

اگر غزل کے بادشاہ کی اپنی البمز  میں گائے گیتوں کی بات کریں تو ان میں جھکی جھکی سی نظر،یہ دولت بھی لے لو یہ شہرت بھی لے لو،چیٹھی نہ کوئی سندیس، تیرے بارے میں جب سوچا نہیں تھا، تیرے آنے کی جب خبر مہکی، تمنا پھر مچل جائے اگر تم ملنے آجاو، یہ وہ غزلیں ہیں جن کی وجہ سے جگجیت سنگھ بالی ووڈ انڈسٹری کے محتاج نہیں رہے تھے،اپنے فن سے خود اپنا نام پیدا کیا اور لوگوں کے دلوں میں ہمیشہ کے لیے خود کو زندہ رکھنے میں بھی کامیاب ہوگئے۔10 اکتوبر 2011  کو غزل کی بادشاہ نے دنیا کو الوداع کہا لیکن اپنے گیتوں کےذریعے اپنی پہچان ہمیشہ کے لیے چھوڑ گئے۔