آئی ایم ایف سے قرضہ لینے کے فائدے اور نقصانات

آئی ایم ایف سے قرضہ لینے کے فائدے اور نقصانات


اسلام آباد(24نیوز) حکومت نے کئی روز کی ہچکچاہٹ اور سوچ بچار کے بعد بالآخر قرض کے حصول کے لیے آئی ایم ایف سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا ہے، آئی ایم ایف پروگرام کے جہاں نقصانات ہیں وہیں فائدے بھی ہیں۔

تقصانات۔۔۔

آئی ایم ایف کا عوام کو بڑا نقصان یہ پہنچتا ہے کہ اپنے پروگرام میں حکومت پر زور دیتا ہے کہ وہ عوام کو مختلف سطح پر دی گئی سبسڈی کو ختم یا کم کرے۔ جس کی وجہ سے لازما مہنگائی ہوگی۔گیس پہلے ہی مہنگی ہوچکی ہے۔ آئی ایم ایف حکومتوں کو خرچ کرنے میں اتنی زیادہ احتیاط برتنے پر مجبور کرتا ہے کہ معیشت کی رفتار سست ہوجاتی ہے جس کا نقصان عام آدمی کو بیروزگاری میں اضافے کی شکل میں پہنچتا ہے۔

آئی ایم ایف کا ہمیشہ یہ اصرار رہا ہے کہ پاکستانی روپیہ اپنی فطری سطح سے زیادہ مہنگا ہے لہذا اس کی قدر کو کم کیا جائے۔ اس بار حکومت نے آئی ایم ایف سے جیسے ہی قرض لینے کا اعلان کیا، روپے کی کمی میں8سے 10 فیصد کمی دیکھنے میں آئی۔ ماہرین کا خیال ہے کہ حکومت آئندہ چند ماہ میں روپے میں مزید 10 فیصد تک کمی پر مجبور ہوگی۔

فوائد۔۔۔

جہاں آئی ایم ایف کے پروگرام سے معاشی طور پر نقصانات ہوتے ہیں وہیں اس کے فوائد بھی ہیں، آئی ایم ایف کا پیکج معاشی عدم استحکام کے خاتمے اور اداروں میں اصلاحات کا ذریعہ بھی بنتا ہے، آئی ایم ایف نے پاکستان کے مختلف اداروں میں اصلاحات پر زور دیاہے۔ 

آئی ایم ایف کی ہمیشہ کوشش ہوتی ہے کہ حکومت ان سفید ہاتھیوں کے نقصان کو کم کرے۔ آئی ایم ایف اپنے پروگرام کے تحت حکومتوں پرغیرضروری اخراجات کم کرنے پربھی زور دیتا ہے۔ غیر ترقیاتی یا انتظامی اخراجات میں کمی سےقومی خزانے کی بچت ہوتی ہے بلکہ عوام میں بھی ایک طرح سے بچت کا پیغام جاتا ہے۔