اڈیالہ جیل کی صفائیاں، ان کو کیسے معلوم کوئی آرہا ہے: نواز شریف


اسلام آباد( 24نیوز )شریف خاندان کے خلاف ایون فیلڈ ریفرنس میں نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث کی آج دسویں سماعت پر جے آئی ٹی سربراہ واجد ضیاء پر جرح جاری ہے،اسلام آباد کی احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نیب کی جانب سے دائر ایون فیلڈ ریفرنس کی سماعت کر رہے ہیں۔


ریفرنس میں نامزد ملزمان سابق وزیراعظم نواز شریف ، ان کی صاحبزادی مریم نواز اور داماد کیپٹن (ر) صفدر آج بھی پیش ہوئے، نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث کی واجد ضیاءپر جرح جاری ہے جس کے بعد مریم نواز اور کیپٹن (ر) صفدر کے وکیل امجد پرویز جرح کریں گے،اس سے قبل واجد ضیاء نے مسلسل چھ سماعتوں کے دوران اپنا بیان قلمبند کرایا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: ن لیگ چھوڑنے والے ڈکٹیٹر کے ساتھی تھے، نواز شریف 
دوسری جانب پیشی کے موقع پر کمرہ عدالت میں صحافی نے نواز شریف سے سوال کیا کہ کسی خاص مہمان کی آمد کے لیے اڈیالہ جیل کی صفائی کی خبریں چل رہی ہیں جس پر انہوں نے کہا کہ جیل میں تیاری پہلے سے شروع کردی گئی ہے۔
سابق وزیراعظم نے کہا کہ اڈیالہ والوں کو کیسے پتہ چلا کہ کوئی آ رہا ہے، 6 ماہ کی مدت ٹرائل مکمل کرنے کے لیے نہیں بلکہ سزا سنانے کے لیے تھی۔صحافی نے سوال کیا کہ آپ کے دائیں بائیں بھی وہی لوگ ہوتے ہیں جو وفاداریاں تبدیل کرتے رہتے ہیں جس پر نواز شریف کا کہنا تھا کہ میرے دائیں بائیں وہ لوگ نہیں بلکہ کمیٹڈ لوگ ہوتے ہیں،ہمارے ساتھ اس وقت وہ لوگ موجود ہیں جو نسلوں سے مسلم لیگی ہیں۔

"نگراں حکومت میں نیب قوانین کو غیر موثر کرنے سے متعلق وزیراعظم سے بات ہوئی ہے"

سابق وزیراعظم نے کہا کہ نگران حکومت میں نیب قوانین کو غیر موثر کرنے سے متعلق وزیراعظم سے بات ہوئی ہے، چاہتے ہیں انتخابات میں حصہ لینے والے امیدواوں پر نیب کا دباو نہیں ہونا چاہیے۔
صحافی کے سوال چوہدری نثار کے بارے میں آپ کیا کہتے ہیں، قوم جاننا چاہتی ہے' پر نواز شریف نے کہا کہ ان کے حوالے سے قوم سب جانتی ہے اور پاکستانی قوم مجھ سے جانے بغیر سب کچھ جانتی ہے۔

بعد ازاں احتساب عدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سابق وزیراعظم نے کہا کہ’ واجد کو عدالت میں کہنا پڑا کہ نوازشریف کی تنخواہ کے بارے میں کوئی ثبوت نہیں، یعنی جس الزام کے تحت مجھے نکالا اس کا بھی کوئی ثبوت نہیں ملا جب وہ ثبوت نہیں تو پھر یہ کیس ہے کیا؟ جو حقائق ہمارے حق میں جاتے تھے وہ بڑی عیاری سے چھپائے گئے لیکن پھر بھی جے آئی ٹی ناکام ہوگئی‘۔

انہوں نے کہا کہ کہتا آرہا ہوں یہ فراڈ ہے اور ہمارے خلاف انتقام ہے، میں اللہ کے سوا کسی کے آگے نہیں جھکتا، کروڑوں عوام مجھ سے پیار کرتے ہیں اس لیے مجھے یہ برداشت نہیں کرتے۔

سابق وزیراعظم کا کہنا تھاکہ ’واٹس ایپ پر جے آئی ٹی کے جو 6 ہیرے تلاش کیے گئے ان میں منگی کے علاوہ باقی 5 میں سے 3 ہمارے سیاسی طور پر بدترین مخالف ہیں، ان کا تعلق پی ٹی آئی سے ہے، پی ٹی آئی کے ٹکٹ ہولڈرز بھی ان کے قریبی عزیز ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ے آئی ٹی میں ایک آئی ایس آئی اور  ملٹری انٹیلی جنس کا ممبر تھا، میرا کیس کوئی دہشت گردی کا کیس نہیں تھا، میں وفاق کے خلاف کوئی کام نہیں کررہا تھا، آئی ایس آئی اور ایم آئی کو بیچ میں ڈالنے کی کیا ضرورت تھی، یہ بہت اہم سوال ہے جو پوچھے جانا چاہیے، ان لوگوں کو اس طرح کے کیس میں کیوں ڈالا گیا۔

حکومتیں شفاف انتخابات سے نہیں دھونس، دھاندلی سے بنتی ہیں: خورشید شاہ

نوازشریف کا کہنا تھا کہ لندن میں انویسٹی گیشن کے لیے جو کمپنی چنی گئی وہ واجد ضیاء کا فرسٹ کزن تھا، واجد ضیاء کو جواب دینا پڑے گا اس کزن کو کتنے پیسے دیئے، یہ پیسےقومی خزانے سے گئے اور یہ قوم کا پیسہ تھا، آج نہیں تو کل واجد ضیاء کو اس کا جواب دینا پڑے گا، قوم بھی اس کا احتساب کرے گی۔

(ن) لیگ کے قائد نے کہا کہ ’میرے کیس میں چن چن کر دور دراز سے لوگوں کو لایا گیا اور ان سے تفتیش کرائی، اس کا مقصد من پسند رپورٹ حاصل کرنا تھا تاکہ مقدمے کے حقائق کچھ بھی ہوں، فیصلہ ایسا کیا جائے جس سے نوازشریف کے خلاف سینوں میں انتقام کی خواہش کو پورا کیا جائے-آج یہ رد عمل میرا نہیں قوم کا ہے اور آئندہ آنے والے وقت میں رد عمل بڑے گا۔

اس موقع پرمریم نواز نے کہا کہ ’جن سے سیاسی طور پر مقابلہ نہیں کرسکتے، ووٹ کے ذریعے جیت نہیں سکتے انہیں عدالتوں سے نااہل کراتے ہیں‘۔