روس تیار رہو، امریکی میزائل آ رہے ہیں: ڈونلڈ ٹرمپ

روس تیار رہو، امریکی میزائل آ رہے ہیں: ڈونلڈ ٹرمپ


24نیوز: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ روس شام میں امریکی میزائلوں کے حملوں کے لیے تیار رہے۔ امریکہ کا ممکنہ حملہ شام میں مبینہ کیمیائی حملے کے جواب میں کیا جا سکتا ہے۔

اپنے ٹویٹ پیغام میں صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ روس تیار رہو، میزائل آ رہے ہیں۔ بہترین، نئے اور سمارٹ۔ تمھیں گیس سے لوگوں کو ہلاک کرنے والے جانور کا ساتھ نہیں دینا چاہیے۔

دوسری جانب روس نے کہا ہے کہ وہ شام کی جانب آنے والے تمام میزائلوں کو مار گرائے گا۔ اقوامِ متحدہ میں روسی مندوب نے امریکہ کو خبردار کیا ہے کہ وہ شام میں کیمیائی حملے کے جواب میں کسی فوجی کارروائی سے باز رہے۔ انہوں نے امریکہ کو خبردار کیا کہ اگر اس نے کسی قسم کی 'غیرقانونی فوجی کارروائی' کی تو وہ اس کا ذمہ دار ہو گا۔

اس تمام صورت صورت حال کے مد نظر شام میں جنگ کے خطرات بڑھ گئے ہیں۔ امریکہ، برطانیہ اور فرانس نے مشترکہ کارروائی پر اتفاق کر لیا۔ سعودی عرب نے بھی امریکی اتحاد میں شامل ہونے کا عندیہ دے دیا۔ شامی فوج نے بھی بری، بحری اور فضائیہ کو الرٹ کر دیا۔

بمباری اور ہلاکتوں سے شامی باشندوں کی شامیں پہلے ہی موت کی وادی بن چکی ہیں۔ اب امریکہ پھر شام میں حملے کے بہانے ڈھونڈ رہا ہے۔ خطہ میں موجود جنگی جہاز نے پوزیشن سنبھال لی ہے۔ شامی فوج نے بھی اپنی بری، بحری اور فضائیہ کو الرٹ کر دیا ہے جبکہ اسرائیل نے بھی سرحد پر اپنی افواج کو الرٹ کر دیا۔

ادھر روس نے شام میں کیمیائی اسلحہ کے استعمال کی تحقیقات سے متعلق سلامتی کونسل میں امریکی قرار داد ویٹو کر دی ہے۔ روسی مندوب کا کہنا ہے کہ امریکہ کو ایک سال پہلے کی طرح حملے کا بہانا چاہیے۔

شام کی کشیدہ صورتحال کے باعث امریکی صدر نے لاطینی امریکہ کا دورہ منسوخ کر دیا۔ ڈونلڈ ٹرمپ شام کو امریکی جواب کی نگرانی خود کرنا چاہتے ہیں۔ سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے بھی فوجی کارروائی میں سعودی عرب کے شامل ہونے کاعندیہ دے دیا ہے۔

برطانوی وزیراعظم تھریسا مے نے امریکی صدر اور فرانسیسی صدر کو فون کیا۔ تینوں ملکوں کے سربراہان نے شام کے خلاف مشترکہ کارروائی پر اتفاق کر لیا۔

بین الاقوامی ذرائع اس کو تیسری عالمی جنگ کا محرک قرار دے رہے ہیں کیونکہ بڑی عالمی طاقتیں آمنے سامنے آ گئی ہیں۔ امریکہ، برطانیہ اور فرانس نے مشترکہ کارروائی پر اتفاق کر لیا۔ روس نے دھمکی دی ہے کہ شام کی طرف کوئی امریکی میزائل آیا تو مارگرائیں گے۔

ایک طرف امریکہ اپنے اتحادیوں کے ساتھ شام پر حملہ کے بہانے ڈھونڈ رہا ہے تو دوسری طرف روس بھی کھل کر شام کی حمایت میں آگے آ گیا ہے۔