عدالت نے دو نو مسلم لڑکیوں کی قسمت کا فیصلہ سنا دیا



اسلام آباد( 24نیوزعدالت نےڈہرکی کی نومسلم لڑکیوں کوشوہروں کے ساتھ جانے کی اجازت دے دی، عدالت نےکہا کہ ان دو لڑکیوں کی حد تک معاملہ واضح ہےکہ مذہب زبردستی تبدیل نہیں ہوا۔

تفصیلات کے مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ نے لڑکیوں کو شوہروں کے ساتھ جانے کی اجازت دے دی، ہائیکورٹ میں دو نو مسلم لڑکیوں کی حفاظت کی درخواست پر سماعت شروع ہوئی تو  وکیل درخواست گزار نے موقف اپنایا کہدونوں لڑکیوں کو گزشتہ اور اس سماعت پر بھی پیش نہیں کیا گیا،  سیکرٹری داخلہ نے عدالت سے استفسار کیا کہ عدالتی حکم پر کمیشن تشکیل دیا گیا اور 4 اپریل کو میٹنگ ہوئی،پہلی میٹنگ میں 2 ممبران کے علاوہ دیگر نے شرکت کی،فیصلہ یہ ہوا کہ ڈاکٹر شیریں مزاری دوسری خاتون ممبر سمیت لڑکیوں سے ملیں گی۔

سیکرٹری داخلہ کا کہنا تھا کہ آئی آر رحمان اور میں دونوں لڑکوں سے ملیں گے اور رائے بنائی جائے گا، دونوں لڑکے گھوٹکی میں حفاظتی ضمانت کے لئے گئے تھے اس لیےچیف سیکرٹری سندھ نے اپنی رپورٹ جمع کرائی ہے، بظاہر یہ زبردستی مذہب تبدیلی کا کیس نہیں لگتا،  میڈیکل بورڈ کے مطابق آسیہ کی عمر 19 اور نادیہ کی عمر 18 سال ہے،لڑکیوں نے زبردستی مذہب تبدیل نہیں کیا،مذہب تبدیلی میں لڑکیوں کی مدد ضرور کی گئی۔

چیف جسٹس ہائیکورٹ کا کہنا تھا کہلڑکیوں کے بیان کے بعد اس تمام کارروائی کی کوئی ضرورت نہیں تھی،انکوائری اس لیے کرائی گئی کہ والدین کی تسلی ہو جائے، معاملے کی حساسیت کو دیکھتے ہوئے انکوائری کا حکم دیا، یہ بات طے ہوچکی کہ زبردستی مذہب تبدیل نہیں کرایا گیا، بعدازاںانکوائری کمیشن کے ممبر آئی اے رحمان عدالت میں پیش ہوئے۔

آئی اے رحمان نے عدالت کو بتایا کہہماری انکوائری کے مطابق لڑکیوں نے مذہب زبردستی تبدیل نہیں کیا ،یہ تاثر ضرور موجود ہے کہ ایک آرگنائز گروپ گھوٹکی کے علاقے میں لوگوں کو تبدیلی مذہب کی ترغیب دیتا ہے،  عدالت اگر اس گروپ سے متعلق ہدایات جاری کر دے تو بہتر ہو گا، جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ مسئلہ یہ ہے کہ سندھ اس عدالت کے دائرہ کار میں نہیں آتا ۔

اسلام آباد ہائیکورٹ نے تمام دلائل سننے کے بعد عدالت نے حکم جاری کیا کہ سیکرٹری داخلہ لڑکیوں اور ان کے شوہروں کو حفاظت دینے کے پابند ہوں گے، انکوائری کمیشن 14 مئی تک اپنی رپورٹ اور حتمی سفارشات پیش کرے، کیس کی اگلی سماعت 14مئی تک ملتوی کردی گئی۔