حنیف عباسی رہا،حامد میر نے حقائق سے پردہ اُٹھا دیا



لاہور( 24نیوز ) ہائیکورٹ نے مسلم لیگ ن کے رہنما حنیف عباسی کی عمر قید کی سزا معطل کر دی, عدالت نےحنیف عباسی کی رہائی کاحکم دے دیا۔

تفصیلات کے مطابق جسٹس عالیہ نیلم کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے فیصلہ سنایا گیا جس میں  مسلم لیگ ن کے رہنما حنیف عباسی کی درخواست ضمانت منظور کرلی گئی،وکیل درخواست گزار  نے موقف احتیار کیا کہ حنیف عباسی کو ایفی ڈرین میں بے بنیادی الزامات کی بنا پر ملوث کیا گیا،ان کے خلاف کسی قسم کے شواہد پیش نہیں کئے جاسکے، سیاسی بنیادوں کی بنا پر ان کے خلاف کیس بنایا گیا جبکہ ان کی طبعیت بھی ناساز ہے، وکیل کا کہنا تھا کہ اس کیس میں ملوث دیگر ملزمان کو رہا کردیا گیا مگر سیاسی بنیادوں کی بنا پر ان کو گرفتار کیا گیا،وکیل درخواست گزار  نےعدالت سے استدعا کی کہ سزا معطل کرکے ضمانت منظور اور رہا کرنے کا حکم دیا جائے۔

عدالت نے تمام دلائل سننے کے بعد حنیف عباسی کی درخواست ضمانت منظور کرتے ہوئے رہائی کا حکم دے دیا،ذرائع کا کہنا تھا کہعدالت کانمائندہ رہائی کی روبکارلیکرجیل جائےگا، ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ جوڈیشل روبکارچیک کرےگا، ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ جوڈیشل روبکارکااندراج کرکےسپرنٹنڈنٹ کوآگاہ کریگا، جس کے بعدجیل کانمائندہ رہائی کی روبکارلیکرہسپتال جائےگا اور متعلقہ انتظامیہ کوروبکاردکھانےکےبعدحنیف عباسی کورہاکیاجائےگا۔

حنیف عباسی کی رہائی پرسینئر تجزیہ کار حامد میر  کا کہنا تھا کہ انہوں نے بہت مشکل وقت کاٹا، کچھ طاقتوں کا مقصد حنیف عباسی کو راولپنڈی کےانتخابات سے دور رکھنا تھا، حنیف عباسی کے خلاف جھوٹے دستاویزات تیار کرکے کیس بنایا گیا،ان کے خلاف رات کے پچھلے پہر فیصلہ سنایا گیا علاوہ ازیں پارٹی کے اندر سے بہت مخالفت تھی، مسلم لیگ ن کی حکومت کے بعض وزیر حنیف عباسی کیخلاف سازش میں شریک رہے۔