سڑکیں کس قانون کے تحت بند کیں، چیف جسٹس آئی جی پنجاب پر برس پڑے

سڑکیں کس قانون کے تحت بند کیں، چیف جسٹس آئی جی پنجاب پر برس پڑے


لاہور(24نیوز) سڑکیں کس قانون کے تحت بند کیں، چیف جسٹس آئی جی پنجاب پر برس پڑے۔ آج ہی رکاوٹیں ہٹانے کاحکم دے دیا۔ چیف جسٹس اور وزیراعلیٰ کے درمیان دلچسپ مکالمہ بھی ہوا۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ وزیراعلی صاحب آپ کی پارٹی جیتی تو آپ کو وزیراعظم دیکھنا چاہتےہیں۔ وزیراعلی بولے آپ تو میرے پیچھے پڑ گئے ہیں جس پر زوردار قہقہ لگا۔

سپریم کورٹ لاہوررجسٹری میں شہر میں سیکورٹی رکاوٹوں کے کیس کی سماعت ہوئی۔ چیف جسٹس نے وزیراعلی کی آمد پر اظہارمسرت کیا کہا کہ آپ نے وزیراعلی سندھ کی طرح آکر اچھی روایت قائم کی۔ ہم آپ کے مشکور ہیں۔

چیف جسٹس میاں ثاقب نثارنے وزیراعلی کو روسٹرم پربلایا۔بولےکہ میاں صاحب !عوامی شخصیت بنیں اورعوام میں آئیں۔ پولیس نے کیوں آپ کو ڈرا کررکھا ہے؟ کیوں شہباز شریف صاحب ہم ٹھیک کہہ رہے ہیں؟ وزیراعلی بولے، جی چیف صاحب آپ ٹھیک کہہ رہے ہیں۔

چیف جسٹسں بولے کہ جب تک رپورٹ پڑھی جا رہی ہے تب تک میاں صاحب آپ بیٹھ سکتے ہیں، دریاؤں میں گند جا رہا ہے اور حکومت نے ٹریٹمنٹ پلانٹ نہیں لگائے۔ چیف جسٹس کا وزیراعلی سے استفسار شہباز شریف بولے کہ انسان ہوں، غلطی کر سکتا ہوں۔ تین ہفتے دیں پلان کے ساتھ آئیں گے۔

چیف جسٹس بولے ابھی اسپتالوں کی ایمرجنسی کو بھی ٹھیک کرنا ہے ۔ وزیر اعلی کا کہنا تھا وہ ٹھیک ہیں، جس پر چیف جسٹس کاکہنا تھا کہ پھر ابھی چل کر دیکھ لیتے ہیں ۔ وزیراعلی فوری بولے کہ کچھ وقت دے دیں۔

رانا مشہود کی بن بلائے روسٹر م پر جانے اوریڈووکیٹ جنرل کےکان میں سرگوشی پر چیف جسٹس برا مان گئے، کہا کہ وزیراعلیٰ کے ساتھ آنے والے وزراسن لیں، عدالت میں پھرتیاں نہ دکھائیں۔

چیف جسٹس نے ایک سال میں پنجاب میں پولیس مقابلوں کی آئی جی سے ایک ہفتے میں رپورٹ طلب کرلی۔